حدیث نمبر: 3973
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحْسِبَنَّ وَلَمْ يَقُلْ لَا تَحْسَبَنَّ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں بنی منتفق کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا ، یا بنی منتفق کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا پھر انہوں نے حدیث بیان کی کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «لا تحسبن» ( سین کے زیر کے ساتھ ) پڑھا اور «لا تحسبن» ( سین کو زبر کے ساتھ ) نہیں پڑھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحروف والقراءات / حدیث: 3973
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, وانظر الحديث السابق (142)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (142)، (تحفة الأشراف: 11172) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´باب:۔۔۔`
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بنی منتفق کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا، یا بنی منتفق کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا پھر انہوں نے حدیث بیان کی کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «لا تحسبن» (سین کے زیر کے ساتھ) پڑھا اور «لا تحسبن» (سین کو زبر کے ساتھ) نہیں پڑھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3973]
فوائد ومسائل:
یہ حدیث کتاب الطھارة، باب في الاستنشار ، حدیث:142 میں گزر چکی ہے اور یہ کلمہ سورہ آل عمران کی آیات:188 میں (عربی) دونوں طرح پڑھا گیا ہے، یعنی سین کے زبراور زیر کے ساتھ۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3973 سے ماخوذ ہے۔