حدیث نمبر: 3971
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، حَدَّثَنَا مِقْسَمٌ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : " وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 فِي قَطِيفَةٍ حَمْرَاءَ ، فُقِدَتْ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : لَعَلّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : يَغُلَّ مَفْتُوحَةُ الْيَاءِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مقسم مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ آیت : «وما كان لنبي أن يغل» ” نبی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خیانت کرے ۔ ۔ ۔ “ ( سورۃ آل عمران : ۱۶۱ ) ایک سرخ چادر کے متعلق نازل ہوئی جو بدر کے دن گم ہو گئی تھی تو کچھ لوگوں نے کہا : شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا ہو تب اللہ تعالیٰ نے : «وما كان لنبي أن يغل» نازل کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «يغل» یا کے فتحہ کے ساتھ ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´باب:۔۔۔`
مقسم مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ آیت: «وما كان لنبي أن يغل» ” نبی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خیانت کرے۔۔۔ “ (سورۃ آل عمران: ۱۶۱) ایک سرخ چادر کے متعلق نازل ہوئی جو بدر کے دن گم ہو گئی تھی تو کچھ لوگوں نے کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا ہو تب اللہ تعالیٰ نے: «وما كان لنبي أن يغل» نازل کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «يغل» یا کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3971]
مقسم مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ آیت: «وما كان لنبي أن يغل» ” نبی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خیانت کرے۔۔۔ “ (سورۃ آل عمران: ۱۶۱) ایک سرخ چادر کے متعلق نازل ہوئی جو بدر کے دن گم ہو گئی تھی تو کچھ لوگوں نے کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا ہو تب اللہ تعالیٰ نے: «وما كان لنبي أن يغل» نازل کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «يغل» یا کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3971]
فوائد ومسائل:
(يَغُلَّ) فعل مضارع معلوم (مصدر غلول) کا ترجمعہ اوپرذکر ہواہے۔
جبکہ اس کی دوسری قراءت بصورت مضارع مجہول یعنی یا پرپیش اور غین پر زبر کے ساتھ ہے۔
اس قراءت میں اس کا ترجمعہ ہوگا: نبی کا یہ مقام نہیں کہ اس کی خیانت کی جائے۔
اگر اسے مصدر اغلال سے سمجھا جائے تو اس کا مفہوم ہوگا: نبی کا یہ مقام نہیں کہ اس کی طرف خیانت کی نسبت کی جائے۔
(يَغُلَّ) فعل مضارع معلوم (مصدر غلول) کا ترجمعہ اوپرذکر ہواہے۔
جبکہ اس کی دوسری قراءت بصورت مضارع مجہول یعنی یا پرپیش اور غین پر زبر کے ساتھ ہے۔
اس قراءت میں اس کا ترجمعہ ہوگا: نبی کا یہ مقام نہیں کہ اس کی خیانت کی جائے۔
اگر اسے مصدر اغلال سے سمجھا جائے تو اس کا مفہوم ہوگا: نبی کا یہ مقام نہیں کہ اس کی طرف خیانت کی نسبت کی جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3971 سے ماخوذ ہے۔