حدیث نمبر: 3966
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السَّمْطِ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ : حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً كَانَتْ فِدَاءَهُ مِنَ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ` انہوں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ہم سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے ( براہ راست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس نے کسی مسلمان گردن کو آزاد کیا تو وہ دوزخ سے اس کا فدیہ ہو گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3966
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, ورواه حريز بن عثمان عن سليم بن عامر انظر مسند أحمد (4/386) وللحديث شواھد كثيرة
تخریج حدیث « سنن الترمذی/فضائل الجھاد 9 (1634)، سنن النسائی/الجھاد 26 (3144)، (تحفة الأشراف: 10755)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/112، 386) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1634 | سنن ابن ماجه: 2522 | سنن نسائي: 3144 | سنن نسائي: 3146 | سنن نسائي: 3147

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2522 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´غلام آزاد کرنے کا بیان۔`
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ میں نے کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: کعب بن مرہ! ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کریں، اور احتیاط سے کام لیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرے گا تو وہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہو گا، اس کی ہر ہڈی اس کی ہر ہڈی کا فدیہ بنے گی، اور جو شخص دو مسلمان لونڈیوں کو آزاد کرے گا تو یہ دونوں اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ بنیں گی، ان کی دو ہڈیاں اس کی ایک ہڈی کے برابر ہوں گی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2522]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا اور مزید لکھا ہے کہ مذکورہ روایت کے بعض حصے کے شواہد صیحح مسلم (1509)
میں ہیں نیز مذکورہ روایت سنن ابی داؤد میں ہے وہاں ہمارے فاضل محقق اس کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے جبکہ سنن ابی داؤد کی حدیث (3952)
اس سے کفایت کرتی ہے۔
اس معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے فاضل محقق کے نزدیک بھی مذکورہ کچھ نہ کچھ اصل ضرور ہے علاوہ ازیں شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسےصیحح قرار دیا ہے دیکھیے: (الإرواء رقم: 1308)
نیز مسند احمد کے محققین نےبھی مذکورہ روایت کے بعض حصے کو صیحح قرار دیا ہے یعنی حدیث کے آخری جملے (وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنْ النَّارِ يُجْزِئُ بِكُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْهُمَا عَظْمٌ مِنْهُ)
کے علاوہ باقی رایت کو صیحح لغیرہ قراردیا ہے لہٰذا اس ساری بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت کی کچھ اصل ضرورہے۔
مزید تفصیل دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 29/ 600، 601)

(2)
حضرت شرحبیل ؓ کو رسول اللہﷺکی خدمت میں زیادہ عرصہ حاضر رہنے کا موقع نہیں ملا اس لیے انھوں نےدوسرے صحابی سے حدیث کاعلم حاصل کیا۔

(3)
صحابیں صحابیت کا شرف حاصل ہونے کےباوجود علم حاصل کرنے کے لیے شوق رکھتے اور اس کے لیے محنت کرتے تھے، مسلمانوں کو چاہیے کہ صحابہ کرام ؓ کی اس مبارک عادت کی پیروی کرتےہوئے دین کاعلم حاصل کرنے میں کوتائی نہ کریں۔

(4)
غلام آزاد کرنا جہنم سےنجات کا باعث ہے۔

(5)
لونڈی کو آزاد کرنا بھی عظیم ثواب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2522 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3144 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اللہ کے راستے (جہاد) میں تیر اندازی کرنے والے کے ثواب کا بیان۔`
عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کے راستے میں (جہاد کرتے کرتے) بوڑھا ہو گیا، تو یہ چیز قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گی، اور جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر بھی چلایا خواہ دشمن کو لگا ہو یا نہ لگا ہو تو یہ چیز اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے درجہ میں ہو گی۔ اور جس نے ایک مومن غلام آزاد کیا تو یہ آزاد کرنا اس کے ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات د [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3144]
اردو حاشہ: 1) اللہ تعالیٰ کے راستے میں عرف کا لحاظ رکھیں تو اس سے مراد جہاد ہوگا یعنی جس نے سیاہ بالوں کے ساتھ جہاد شروع کیا حتیٰ کہ اس کے بال سفید ہوگئے، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس سے مراد ہر نیک کام ہو کیونکہ بہت سی احادیث میں مومن کے سفید بالوں کو اس کے لیے نور قرار دیا گیا ہے، جب کہ جہاد کی فضیلت تو سفید بالوں کی محتاج نہیں۔ وہ تو اس کے علاوہ بھی افضل عمل ہے۔ واللہ أعلم۔
(2) نور، یعنی وہ بال ہی نور بن جائیں گے یا اسے اس بنا پر نور حاصل ہوگا۔ ویسے بھی سفید بالوں اور نور میں ظاہری مماثلت پائی جاتی ہے اور جزا بھی مماثل ہی ہوتی ہے۔
(3) ہرعضو البہ اس میں مذکر مؤنث کا فرق نہیں، یعنی مذکر، مؤنث کو آزاد کرے یا مؤنث، مذکر کو، اسے یہ ثواب ملے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3144 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3146 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اللہ کے راستے (جہاد) میں تیر اندازی کرنے والے کے ثواب کا بیان۔`
شرحبیل بن سمط سے روایت ہے کہ انہوں نے کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کعب! ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کیجئے، لیکن دیکھئیے اس میں کوئی کمی و بیشی اور فرق نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مسلمان اسلام پر قائم رہتے ہوئے اللہ کے راستے میں بوڑھا ہوا تو قیامت کے دن یہی چیز اس کے لیے نور بن جائے گی ، انہوں نے (پھر) ان سے کہا: ہم سے نبی اکرم صلی الل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3146]
اردو حاشہ: 1) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قراردیا ہے اور دلائل کی رو سے یہی بات راجح اور درست معلوم ہوتی ہے کہ یہ روایت صحیح ہے‘ نیز محقق کتاب نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس روایت کے بعض حصے کے شواہد صحیح مسلم (1509) میں ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائی: 26/ 212۔214‘ وصحیح سنن النسائی لألبانی: 2/ 385‘ رقم:3144) (2) ’’تیری ماں‘‘ اگرچہ کسی کے منہ پر اس کی ماںکا ذکر کرنا عرف عام میں معیوب سمجھا جاتا ہے مگر شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔ خصوصاً جب کہ متعلقہ شخص اسے محسوس بھی نہ کرے۔ رسول ا للہﷺ کا تعلق اپنے صحابہ سے بہت گہرا تھا۔ صحابہ کی مائیں اپنے بیٹوں کی زبانی آپ کو سلام ودعا کا پیغام بھیجتی تھیں‘ لہٰذا آپ کی زبان پر ایسا ذکر ان کے لیے خوش طبعی کا موجب تھا۔ ہر آدمی اپنی حیثیت کے مطابق کلام کرتا ہے۔ سب پر ایک ہی حکم لاگو نہیں کیا جاسکتا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3146 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3147 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اللہ کے راستے (جہاد) میں تیر اندازی کرنے والے کے ثواب کا بیان۔`
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ اور اس میں بھول چوک اور کمی و بیشی کا شائبہ تک نہ ہو۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا، دشمن کے قریب پہنچا، قطع نظر اس کے کہ تیر دشمن کو لگایا نشانہ خطا کر گیا، تو اسے ایک غلام آزاد کرنے کے ثو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3147]
اردو حاشہ: تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر 3144۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3147 سے ماخوذ ہے۔