حدیث نمبر: 3963
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ " ، وقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ وَلَدَ زِنْيَةٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زنا کا بچہ تینوں میں سب سے برا ہے “ ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی راہ میں ایک کوڑا دینا میرے نزدیک ولد الزنا کو آزاد کرنے سے بہتر ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3963
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12601)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/311) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جو غلام یا لونڈی ولد الزنا ہو اس کو آزاد کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زنا کا بچہ تینوں میں سب سے برا ہے۔‏‏‏‏ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی راہ میں ایک کوڑا دینا میرے نزدیک ولد الزنا کو آزاد کرنے سے بہتر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3963]
فوائد ومسائل:
زنا زادے کا برا ہونا اسی صورت میں ہے جب وہ ماں باپ کی مانند بدکاری جیسےقبیح اعمال کرے۔
ورنہ اس میں اس کا کوئی جرم نہیں اور عام شرعی قائدہ یہ ہےکہ (عربی) کوئی جان کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گی نیز اس حدیث کا ورود ایک خاص واقع ہے کہ ایک منافق رسول اللہﷺ کو ایذا دیا کرتا تھا تو اس موقع پر آپ کو بتا یا گیا کہ وہ زنا زادہ ہے۔
تب آپ نے مذکورہ بالابات کہی۔
تفصیل کےلئے دیکھیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3963 سے ماخوذ ہے۔