حدیث نمبر: 3960
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الطَّحَّانُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ بِمَعْنَاهُ ، وَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک انصاری نے ... آگے انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں یہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں اس کے دفن کئے جانے سے پہلے موجود ہوتا تو وہ مسلمانوں کے قبرستان میں نہ دفنایا جاتا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3960
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (3390), أبو زيد ھو عمرو بن أخطب رضي الله عنه
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10695) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کوئی شخص اپنے غلاموں کو آزاد کرے جو تہائی مال سے زائد ہوں تو کیا حکم ہے؟`
ابوزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے ... آگے انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں یہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اس کے دفن کئے جانے سے پہلے موجود ہوتا تو وہ مسلمانوں کے قبرستان میں نہ دفنایا جاتا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3960]
فوائد ومسائل:
یہ شدید زجر اس ظلم کی بنا پر تھی جو اس نے اپنی وصیت میں اپنے وارثوں پر کیا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3960 سے ماخوذ ہے۔