سنن ابي داود
كتاب العتق— کتاب: غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل
باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي باب: جنہوں نے اس حدیث میں محنت کرانے کا ذکر نہیں کیا ان کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3948
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ ، عَنْ ابْنِ التَّلِبِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا "أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ ، فَلَمْ يُضَمِّنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ أَحْمَدُ : إِنَّمَا هُوَ بِالتَّاءِ يَعْنِي التَّلِبَّ وَكَانَ شُعْبَةُ أَلْثَغُ لَمْ يُبَيِّنِ التَّاءَ مِنَ الثَّاءِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´تلب بن ثعلبہ تمیمی عنبری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` ایک شخص نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باقی قیمت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ۔ احمد کہتے ہیں : ( صحابی کا نام ) تلب تائے فوقانیہ سے ہے نہ کہ ثلب ثائے مثلثہ سے اور راوی حدیث شعبہ ہکلے تھے یعنی ان کی زبان سے تاء ادا نہیں ہوتی تھی وہ تاء کو ثاء کہتے تھے ۔