حدیث نمبر: 3939
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ لَمْ يَذْكُرِ السِّعَايَةَ ، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ جَمِيعًا ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِإِسْنَادِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، وَمَعْنَاهُ وَذَكَرَا فِيهِ السِّعَايَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے سعید سے بھی اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے` ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے روح بن عبادہ نے سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے انہوں نے «سعایہ» کا ذکر نہیں کیا ہے ، اور اسے جریر بن حازم اور موسیٰ بن خلف نے قتادہ سے یزید بن زریع کی سند سے اسی کے مفہوم کے ساتھ روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں «سعایہ» کا ذکر کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العتق / حدیث: 3939
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وانظر الحديث السابق (3938)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (3934)، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جس شخص کے نزدیک آزاد کرنے والا مفلس ہو تو غلام سے محنت کرائی جائے اس کی دلیل کا بیان۔`
اس سند سے سعید سے بھی اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے روح بن عبادہ نے سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے انہوں نے «سعایہ» کا ذکر نہیں کیا ہے، اور اسے جریر بن حازم اور موسیٰ بن خلف نے قتادہ سے یزید بن زریع کی سند سے اسی کے مفہوم کے ساتھ روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں «سعایہ» کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3939]
فوائد ومسائل:
ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر مالک کے لئے باقی حصہ آزاد کرنا ممکن نہ ہوتو غلام ہی سے محنت کرائی جائے تاکہ وہ اپنی قیمت ادا کر کے آزاد ہو جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3939 سے ماخوذ ہے۔