سنن ابي داود
كتاب العتق— کتاب: غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل
باب فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ باب: جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3936
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّي ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ عَتَقَ مِنْ مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ " ، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ الْمُثَنَّى النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قتادہ اس سند سے بھی روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو وہ غلام اس کے مال سے پورا آزاد ہو گا اگر اس کے پاس مال ہے “ ۔ اور ابن مثنی نے نضر بن انس کا ذکر نہیں کیا ہے ، اور یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان۔`
قتادہ اس سند سے بھی روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو وہ غلام اس کے مال سے پورا آزاد ہو گا اگر اس کے پاس مال ہے۔“ اور ابن مثنی نے نضر بن انس کا ذکر نہیں کیا ہے، اور یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3936]
قتادہ اس سند سے بھی روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو وہ غلام اس کے مال سے پورا آزاد ہو گا اگر اس کے پاس مال ہے۔“ اور ابن مثنی نے نضر بن انس کا ذکر نہیں کیا ہے، اور یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3936]
فوائد ومسائل:
اسی کے مال سے آزاد کیا جائے گا، اس کی وضاحت اگلی حدیث میں ملاخطہ ہو۔
اسی کے مال سے آزاد کیا جائے گا، اس کی وضاحت اگلی حدیث میں ملاخطہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3936 سے ماخوذ ہے۔