سنن ابي داود
كتاب العتق— کتاب: غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل
باب فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ باب: جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3934
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ایک شخص نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو نافذ کر دیا اور اس سے اس کے بقیہ قیمت کا تاوان دلایا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1124 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اسلام غلام کے ساتھ بھی احسان اور نیکی کا درس دیتا ہے، اور ظلم و جبر تو مطلقاً حرام ہے۔
اس حدیث میں غلام کے متعلق ایک مسئلہ بیان ہوا ہے کہ اگر ایک غلام کے دو مالک ہیں، ایک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا، اب وہ غلام آدھا آزاد ہے اور آدھا غلام ہے تو دوسرے مالک کو بھی آزاد کر دینا چاہیے، تا کہ غلام مکمل آزاد ہو جائے
اب اس کے دو طریقے ہیں، یا تو غلام دوسرے مالک کو قیمت ادا کر دے اور وہ آزاد ہو جائے، اگر اس کے پاس رقم نہیں ہے، تو اس سے اس کی طاقت کے مطابق کام لیا جائے، اور وہ محنت و مشقت کر کے رقم جمع کرے اور اپنے دوسرے مالک کو ادا کر دے اور مکمل آزاد ہو جائے۔
اسلام کسی شخص کو آدھا آزاد اور آدھا غلام پسند نہیں کرتا، کیونکہ اس پر حدود کس طرح لاگو ہوں گی، اس طرح دین کے کئی ایک دوسرے مسائل ہیں، جب وہ آدھا غلام اور آدھا آزاد ہو گا تب کئی ایک مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیز دیکھیں (فتح الباری: 219/1)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اسلام غلام کے ساتھ بھی احسان اور نیکی کا درس دیتا ہے، اور ظلم و جبر تو مطلقاً حرام ہے۔
اس حدیث میں غلام کے متعلق ایک مسئلہ بیان ہوا ہے کہ اگر ایک غلام کے دو مالک ہیں، ایک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا، اب وہ غلام آدھا آزاد ہے اور آدھا غلام ہے تو دوسرے مالک کو بھی آزاد کر دینا چاہیے، تا کہ غلام مکمل آزاد ہو جائے
اب اس کے دو طریقے ہیں، یا تو غلام دوسرے مالک کو قیمت ادا کر دے اور وہ آزاد ہو جائے، اگر اس کے پاس رقم نہیں ہے، تو اس سے اس کی طاقت کے مطابق کام لیا جائے، اور وہ محنت و مشقت کر کے رقم جمع کرے اور اپنے دوسرے مالک کو ادا کر دے اور مکمل آزاد ہو جائے۔
اسلام کسی شخص کو آدھا آزاد اور آدھا غلام پسند نہیں کرتا، کیونکہ اس پر حدود کس طرح لاگو ہوں گی، اس طرح دین کے کئی ایک دوسرے مسائل ہیں، جب وہ آدھا غلام اور آدھا آزاد ہو گا تب کئی ایک مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیز دیکھیں (فتح الباری: 219/1)
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1122 سے ماخوذ ہے۔