سنن ابي داود
كتاب العتق— کتاب: غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل
باب فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ باب: جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3933
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَعْنَى ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ ،عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا " أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ " ، زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ : فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ بن عمیر الہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے “ ۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو نافذ کر دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان۔`
اسامہ بن عمیر الہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔“ ابن کثیر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو نافذ کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3933]
اسامہ بن عمیر الہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔“ ابن کثیر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو نافذ کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3933]
فوائد ومسائل:
جزوی طور پر آزاد کیے گئے، غلام کو کامل آزادی دینے کی صورت نکالنی ضروری ہے، جیسے کہ درج ذیل احادیث میں آرہا ہے۔
جزوی طور پر آزاد کیے گئے، غلام کو کامل آزادی دینے کی صورت نکالنی ضروری ہے، جیسے کہ درج ذیل احادیث میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3933 سے ماخوذ ہے۔