سنن ابي داود
كتاب العتق— کتاب: غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الْمُكَاتَبِ يُؤَدِّي بَعْضَ كِتَابَتِهِ فَيَعْجِزُ أَوْ يَمُوتُ باب: مکاتب غلام بدل کتابت میں سے کچھ ادا کرے پھر نہ دے سکے یا مر جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 3926
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُتْبَةَ إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِرْهَمٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مکاتب ۱؎ اس وقت تک غلام ہے جب تک اس کے بدل کتابت ( آزادی کی قیمت ) میں سے ایک درہم بھی اس کے ذمہ باقی ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جو اپنے مالک سے کسی مخصوص رقم کی ادائیگی کے بدلے اپنی آزادی کا معاہدہ کر لے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1230 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´مدبر، مکاتب اور ام ولد کا بیان`
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ مکاتب اس وقت تک غلام ہی ہے جب تک اس کی مکاتبت سے ایک درہم بھی باقی ہے۔ “ اسے ابوداؤد نے حسن سند سے نکالا ہے اور اس کی اصل احمد اور تینوں کے ہاں ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1230»
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ مکاتب اس وقت تک غلام ہی ہے جب تک اس کی مکاتبت سے ایک درہم بھی باقی ہے۔ “ اسے ابوداؤد نے حسن سند سے نکالا ہے اور اس کی اصل احمد اور تینوں کے ہاں ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1230»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، العتق، باب في المكاتب يؤدي بعض كتابته فيعجز أو يموت، حديث:3926، وأصله أخرجه أبوداود، العتق، حديث:3927، والترمذي، البيوع، حديث:1260، وابن ماجه، العتق، حديث:2519، وأحمد:2 /178، 184،206، 209، وهو حديث حسن.»
تشریح: اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’مکاتب‘‘ جب تک طے شدہ رقم ادا نہ کر سکے اس وقت تک وہ غلام ہی رہے گا اور مالک اس سے خدمت لے سکے گا۔
جمہور علماء کا یہی مذہب ہے۔
«أخرجه أبوداود، العتق، باب في المكاتب يؤدي بعض كتابته فيعجز أو يموت، حديث:3926، وأصله أخرجه أبوداود، العتق، حديث:3927، والترمذي، البيوع، حديث:1260، وابن ماجه، العتق، حديث:2519، وأحمد:2 /178، 184،206، 209، وهو حديث حسن.»
تشریح: اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’مکاتب‘‘ جب تک طے شدہ رقم ادا نہ کر سکے اس وقت تک وہ غلام ہی رہے گا اور مالک اس سے خدمت لے سکے گا۔
جمہور علماء کا یہی مذہب ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1230 سے ماخوذ ہے۔