سنن ابي داود
كتاب الكهانة والتطير— کتاب: کہانت اور بدفالی سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الطِّيَرَةِ باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3924
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثِيرٌ فِيهَا عَدَدُنَا ، وَكَثِيرٌ فِيهَا أَمْوَالُنَا ، فَتَحَوَّلْنَا إِلَى دَارٍ أُخْرَى فَقَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا وَقَلَّتْ فِيهَا أَمْوَالُنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَرُوهَا ذَمِيمَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم ایک گھر میں تھے تو اس میں ہمارے لوگوں کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارے پاس مال بھی زیادہ رہتا تھا پھر ہم ایک دوسرے گھر میں آ گئے تو اس میں ہماری تعداد بھی کم ہو گئی اور ہمارا مال بھی گھٹ گیا ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے چھوڑ دو ، مذموم حالت میں ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے دیا کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ وہ گھر ہی کو مؤثر سمجھنے لگ جائیں اور شرک میں پڑ جائیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم ایک گھر میں تھے تو اس میں ہمارے لوگوں کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارے پاس مال بھی زیادہ رہتا تھا پھر ہم ایک دوسرے گھر میں آ گئے تو اس میں ہماری تعداد بھی کم ہو گئی اور ہمارا مال بھی گھٹ گیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے چھوڑ دو، مذموم حالت میں ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3924]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم ایک گھر میں تھے تو اس میں ہمارے لوگوں کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارے پاس مال بھی زیادہ رہتا تھا پھر ہم ایک دوسرے گھر میں آ گئے تو اس میں ہماری تعداد بھی کم ہو گئی اور ہمارا مال بھی گھٹ گیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے چھوڑ دو، مذموم حالت میں ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3924]
فوائد ومسائل:
رسول اللہ ﷺ نے انھیں یہ گھر چھوڑنے کا حکم اس لیئے دیا کہ تجربے سے اس گھر کا بے برکت ہونا ثابت ہوگیا تھا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی اس قسم کی صورت سامنے آئے، تو وہاں اس حکمِ نبوی کے مطابق عمل کرلینا بہتر ہے۔
اور بعض شارحین نے کہا ہے کہ نبی ﷺ نےانہیں گھر بدلنے کا حکم اس لیئے دیا تھا کہ وہ اس وہم کا شکار نہ ہوں کہ اُنھیں یہ نقصان اس گھر کی وجہ سے پہنچا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے انھیں یہ گھر چھوڑنے کا حکم اس لیئے دیا کہ تجربے سے اس گھر کا بے برکت ہونا ثابت ہوگیا تھا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی اس قسم کی صورت سامنے آئے، تو وہاں اس حکمِ نبوی کے مطابق عمل کرلینا بہتر ہے۔
اور بعض شارحین نے کہا ہے کہ نبی ﷺ نےانہیں گھر بدلنے کا حکم اس لیئے دیا تھا کہ وہ اس وہم کا شکار نہ ہوں کہ اُنھیں یہ نقصان اس گھر کی وجہ سے پہنچا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3924 سے ماخوذ ہے۔