سنن ابي داود
كتاب الكهانة والتطير— کتاب: کہانت اور بدفالی سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الطِّيَرَةِ باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3923
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، وَعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ فَرْوَةَ بْنَ مُسَيْكٍ ، قَالَ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرْضٌ عِنْدَنَا يُقَالُ لَهَا أَرْضُ أَبْيَنَ هِيَ أَرْضُ رِيفِنَا وَمِيرَتِنَا وَإِنَّهَا وَبِئَةٌ ، أَوْ قَالَ : وَبَاؤُهَا شَدِيدٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْهَا عَنْكَ فَإِنَّ مِنَ الْقَرَفِ التَّلَفَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس ایک زمین ہے جسے ابین کہا جاتا ہے یہی ہمارا کھیت ہے جہاں سے ہمیں غلہ ملتا ہے لیکن یہ وبا والی زمین ہے یا کہا کہ اس کی وبا سخت ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس زمین کو اپنے سے علیحدہ کر دے کیونکہ اس کے ساتھ وبا لگی رہنے سے ہلاکت ہے “ ۔