حدیث نمبر: 3921
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى ، أَنَّ الْحَضْرَمِيَّ بْنَ لَاحِقٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " لَا هَامَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَإِنْ تَكُنْ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ ، فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” مردے کی روح جانور کی شکل میں نہیں نکلتی ، اور نہ کسی کی بیماری کسی کو لگتی ہے ، اور نہ کسی چیز میں نحوست ہے ، اور اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو گھوڑے ، عورت اور گھر میں ہوتی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3921
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4586)
تخریج حدیث تفردبہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3861)، وقد أخرجہ: حم (1/180، 186) (صحیح)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔`
سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: مردے کی روح جانور کی شکل میں نہیں نکلتی، اور نہ کسی کی بیماری کسی کو لگتی ہے، اور نہ کسی چیز میں نحوست ہے، اور اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3921]
فوائد ومسائل:
بدشگونی اور بد فالی اگر ہو تو بھی تو ان مذکو رہ اشیاء میں ممکن ہے، لیکن یہ کو ئی یقینی نہیں۔
بخلاف اس عقیدے کے جو عہدِ جاہلیت میں معروف تھا۔
سواری، بیوی اور گھر اگر دین و دُنیا میں مُفید مطلب نہ ہوں تو ان کے بدل لینے میں کو ئی مذائقہ نہیں۔
نا موافق اور خراب سواری کواپنے لیئے دردِ سر بنائے رکھنا یا بیوی جھگڑالو ہو، خدمت گار نہ ہو اور نہ دینی اُمور میں معاون ہی ہو تو ہر وقت کے حزن و ملال کو پالتے رہنا اور اسی طرح گھر جو تنگ ہو ماحول خراب ہو ہمسائے اچھے نہ ہوں تو اس میں اٹکے رہنا کسی طرح قرینِ مصلحت نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3921 سے ماخوذ ہے۔