حدیث نمبر: 3919
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَأبُو بَكْرِ بْنُ شَيْبَةَ الْمَعْنَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ أَحْمَدُ ، الْقُرَشِيُّ قَالَ : " ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَحْسَنُهَا الْفَأْلُ وَلَا تَرُدُّ مُسْلِمًا فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ ، فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عروہ بن عامر قرشی کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس طیرہ ( بدشگونی ) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اس کی سب سے اچھی قسم نیک فال ، اور اچھا ( شگون ) ہے ، اور فال ( شگون ) کسی مسلمان کو اس کے ارادہ سے باز نہ رکھے پھر جب تم میں سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے ناگوار ہو تو وہ یہ دعا پڑھے : «اللهم لا يأتي بالحسنات إلا أنت ولا يدفع السيئات إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بك» ” اے اللہ ! تیرے سوا کوئی بھلائی نہیں پہنچا سکتا اور سوائے تیرے کوئی برائیوں کو روک بھی نہیں سکتا اور برائی سے باز رہنے اور نیکی کے کام کرنے کی طاقت و قوت صرف تیری توفیق ہی سے ملتی ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3919
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سفيان الثوري وحبيب عنعنا, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9899) (ضعیف) » (اس کے راوی عروہ قرشی تابعی ہیں اس لئے یہ روایت مرسل ہے )