سنن ابي داود
كتاب الكهانة والتطير— کتاب: کہانت اور بدفالی سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الطِّيَرَةِ باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3918
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : يَقُولُ : " وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ ، النَّاسُ الصَّفَرُ ، قُلْتُ : فَمَا الْهَامَةُ ؟ ، قَالَ : يَقُولُ النَّاسُ : الْهَامَةُ الَّتِي تَصْرُخُ هَامَةُ النَّاسِ وَلَيْسَتْ بِهَامَةِ الْإِنْسَانِ إِنَّمَا هِيَ دَابَّةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطاء سے روایت ہے کہ لوگ کہتے تھے کہ` صفر ایک قسم کا درد ہے جو پیٹ میں ہوتا ہے تو میں نے پوچھا : ہامہ کیا ہے ؟ کہا : لوگ کہتے تھے : الو جو بولتا ہے وہ لوگوں کی روح ہے ، حالانکہ وہ انسان کی روح نہیں بلکہ وہ ایک جانور ہے ( اگلے لوگ جہالت سے اسے انسان کی روح سمجھتے تھے ) ۔