سنن ابي داود
كتاب الكهانة والتطير— کتاب: کہانت اور بدفالی سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الطِّيَرَةِ باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قال : قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، قَوْلُهُ هَامَ ، قَالَ : كَانَت الْجَاهِلِيَّةُ تَقُولُ : لَيْسَ أَحَدٌ يَمُوتُ ، فَيُدْفَنُ ، إِلَّا خَرَجَ مِنْ قَبْرِهِ هَامَةٌ ، قُلْتُ : فَقَوْلُهُ " صَفَرَ " قَالَ : سَمِعْتُ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْتَشْئِمُونَ بِصَفَرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَفَرَ " ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَقَدْ سَمِعْنَا مَنْ يَقُولُ هُوَ وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ ، فَكَانُوا يَقُولُونَ هُوَ يُعْدِي ، فَقَالَ : " لَا صَفَرَ " .
´بقیہ کہتے ہیں کہ` میں نے محمد بن راشد سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «هام» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے : جو آدمی مرتا ہے اور دفن کر دیا جاتا ہے تو اس کی روح قبر سے ایک جانور کی شکل میں نکلتی ہے ، پھر میں نے پوچھا آپ کے قول «لا صفر» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے سنا ہے کہ جاہلیت کے لوگ «صفر» کو منحوس جانتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «صفر» میں نحوست نہیں ہے ۔ محمد بن راشد کہتے ہیں : میں نے کچھ لوگوں کو کہتے سنا ہے : «صفر» پیٹ میں ایک قسم کا درد ہے ، لوگ کہتے تھے : وہ متعدی ہوتا ہے ( یعنی ایک کو دوسرے سے لگ جاتا ہے ) تو آپ نے فرمایا : ” «صفر» کوئی چیز نہیں ہے “ ۔