سنن ابي داود
كتاب الكهانة والتطير— کتاب: کہانت اور بدفالی سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الطِّيَرَةِ باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3914
قَالَ أَبُو دَاوُد : قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ ، أَخْبَرَكُمْ أَشْهَبُ ، قَالَ : سُئِلَ مَالِكٌ : عَنْ قَوْلِهِ : لَا صَفَرَ ، قَالَ : إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُحِلُّونَ صَفَرَ يُحِلُّونَهُ عَامًا ، وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا صَفَرَ ،
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوداؤد کہتے ہیں` حارث بن مسکین پر پڑھا گیا ، اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول : «لا صفر» کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : جاہلیت میں لوگ «صفر» کو کسی سال حلال قرار دے لیتے تھے اور کسی سال اسے ( محرم کا مہینہ قرار دے کر ) حرام رکھتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «صفر» ( اب ایسا ) نہیں ہے “ ۔