سنن ابي داود
كتاب الكهانة والتطير— کتاب: کہانت اور بدفالی سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الطِّيَرَةِ باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلانِيُّ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَّةَ " . فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : مَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ ، فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ ، فَيُجْرِبُهَا ، قَالَ : فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ ، قَالَ مَعْمَرٌ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يُورِدَنَّ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ ، قَالَ : فَرَاجَعَهُ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : أَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَنَا عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ ؟ " قَالَ : لَمْ أُحَدِّثْكُمُوهُ ؟ قَالَ الزُّهْرِيُّ : قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : قَدْ حَدَّثَ بِهِ وَمَا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ نَسِيَ حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَهُ .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے ، نہ کسی چیز میں نحوست ہے ، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اور نہ کسی مردے کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے “ تو ایک بدوی نے عرض کیا : پھر ریگستان کے اونٹوں کا کیا معاملہ ہے ؟ وہ ہرن کے مانند ( بہت ہی تندرست ) ہوتے ہیں پھر ان میں کوئی خارشتی اونٹ جا ملتا ہے تو انہیں بھی کیا خارشتی کر دیتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھلا پہلے اونٹ کو کس نے خارشتی کیا ؟ “ ۔ معمر کہتے ہیں : زہری نے کہا : مجھ سے ایک شخص نے ابوہریرہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” کوئی بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے ساتھ پانی پلانے کے لیے نہ لایا جائے “ پھر وہ شخص ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، اور ان سے کہا : کیا آپ نے مجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے ، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے ، اور نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے “ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا ، اور کہا : میں نے اسے آپ لوگوں سے نہیں بیان کیا ہے ۔ زہری کا بیان ہے : ابوسلمہ کہتے ہیں : حالانکہ انہوں نے اسے بیان کیا تھا ، اور میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کبھی کوئی حدیث بھولتے نہیں سنا سوائے اس حدیث کے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی چیز میں نحوست ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اور نہ کسی مردے کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے “ تو ایک بدوی نے عرض کیا: پھر ریگستان کے اونٹوں کا کیا معاملہ ہے؟ وہ ہرن کے مانند (بہت ہی تندرست) ہوتے ہیں پھر ان میں کوئی خارشتی اونٹ جا ملتا ہے تو انہیں بھی کیا خارشتی کر دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بھلا پہلے اونٹ کو کس نے خارشتی کیا؟۔“ معمر کہتے ہیں: زہری نے کہا: مجھ سے ایک شخص نے ابوہریرہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3911]
1) رسول اللہ ﷺ نے اعرابی کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے سمجھایا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتا ہے۔
یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ایک خارش زدہ اُونٹ نے باقی اُنٹ بھی خارش زدہ کر دیئے، بلکہ سن کچھ اللہ کی طرف سے اور اس کی مشیت سے ہو تا ہے۔
ایک گلے میں کتنے ہی اُونٹ ہوتے ہیں جو اس مرض سے محفوظ بھی رہتے ہیں
2) بیمار اُونٹ کا صحت مند کے ساتھ ملانے کی ممانعت اس غرض سے ہے کہ کم علم لوگ لا یعنی اوہامیں مبتلا نہ ہوں۔
3) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا پہلے حدیث بیان کرکےاس کا انکار کرنا کو ئی تعجب کی بات نہیں، کیونکہ بھول جانا بشری تقاضا ہے۔
(1)
جس مؤثر حقیقی نے پہلے اونٹ کو خارشی بنایا تھا، اس نے دوسروں کو بھی خارشی بنا دیا ہے۔
اگر خارش چھوت چھات کی وجہ سے ہوتی تو پہلے اونٹ کو خارش نہ ہوتی کیونکہ اس وقت کوئی دوسرا اونٹ خارشی نہیں تھا، لہذا اونٹ کو کسی کے بغیر خارش ہو جاتی ہے تو دوسروں کو بھی طبعی طور پر ہو سکتی ہے۔
اس پر متعدی ہونے کو کوئی دخل نہیں ہے۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ صفر بیماری کے جان لیوا ہونے کا عقیدہ سرے سے غلط ہے۔
انسان کو موت کسی بیماری سے نہیں بلکہ اس کی اجل ختم ہونے سے آتی ہے۔
واللہ أعلم
آدمیوں کے ڈرسے اکثر جنگل اور ویرانہ میں رہتا ہے۔
عرب لوگ الو کو منحوس سمجھتے ان کا اعتقاد یہ تھا کہ آدمی کی روح مرنے کے بعد الو کے قالب میں آ جاتی ہے اور پکارتی پھرتی ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لغو خیال کا رد کیا۔
صفر پیٹ کا ایک کیڑا ہے جو بھوک کے وقت پیٹ کو نوچتا ہے، کبھی آدمی اس کی وجہ سے مر جاتا ہے عرب لوگ اس بیماری کو متعدی جانتے تھے۔
امام مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے صفر کے یہی معنی نقل کئے ہیں۔
بعضوں نے کہا صفر سے وہ مہینہ مراد ہے جو محرم کے بعد آتا ہے۔
عرب لوگ اسے بھی منحوس سمجھتے تھے اب تک ہندوستان میں بعض لوگ تیرہ تیزی کو منحوس جانتے اور ان دنوں میں شادی بیاہ نہیں کرتے۔
عربوں کے ہاں عقیدہ تھا کہ مقتول کی ہڈیاں جب بوسیدہ اور پرانی ہو جاتی ہیں تو اس کی کھوپڑی سے ایک الو برآمد ہوتا ہے جو اس کی قبر کے اردگرد چکر لگاتا رہتا ہے اور پیاس، پیاس کہتا ہے۔
اگر مرنے والے کا بدلہ لے لیا جائے تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے۔
اس وہم کی بنیاد پر وہ لوگ، جیسے بھی بن پڑتا بدلہ لینے پر اصرار کرتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لغو خیال کی تردید فرمائی ہے، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ ابن جریج نے حضرت عطاء سے پوچھا: "هَامَه" کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا: لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ پرندہ انسانی روح ہوتا ہے جو چیختا چلاتا رہتا ہے، حالانکہ یہ انسانی روح نہیں بلکہ کوئی زمینی پرندہ ہے۔
(سنن أبي داود، الطب، حدیث: 3918)
➊ ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ: «ولا صفر»
اور «صفر» (کچھ) نہیں ہے۔ [صحيح بخاري: 5707 وصحيح مسلم: 3220]
اس حدیث کی تشریح میں محمد بن راشد المکحولی رحمہ اللہ (متوفی بعد 260ھ) فرماتے ہیں: «سمعناً أن أهل الجاهلے ة يستشئمون بصفر»
ہم نے (اپنے استادوں سے) سنا ہے کہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ صفر کو منحوس سمجھتے تھے۔ [سنن ابي داود: 3916 وسنده حسن]
«أيلما يتوهمون أن فيه تكثر الدواهي والفتن»
یعنی انہیں یہ وہم تھا کہ صفر میں مصیبتیں اور فتنے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ [ارشاد الساري للقسطلاني ج8 ص374]
موجودہ دور میں بھی بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ صفر میں ’’ترہ تیزی“ یعنی تیرہ تیزی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے برتن وغیرہ ٹوٹتے ہیں اور لوگوں کا نقصان ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ باطل عقیدہ بعینہ اہلِ جاہلیت کا عقیدہ ہے۔
➋ صفر کے آخر میں ’’چُوری“ کی رسم کا کوئی ثبوت کتاب و سنت میں نہیں ہے۔ ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد کی کتاب ’’تقویمِ تاریخی“ سے صفر کے بارے میں چند معلومات درج ذیل ہیں: 27 صفر 1ھ ہجرت شروع
12 صفر 2ھ فرضیت جہاد
صفر 32ھ وفات عبد الرحمن بن عوف
صفر 35ھ وفات ابوطلحہ الالقاری
صفر 43ھ وفات محمد بن سلمہ
صفر 50ھ وفات صفیہ بن حي
صفر 52ھ وفات عمران بن حصین
صفر 56ھ وفات عبداللہ بن عمرو
صفر 66ھ وفات جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہم اجمعین
صفر 157ھ وفات امام اوزاعی رحمہ اللہ
تحریر: مولانا ابوعبد الرحمٰن محمد ارشد کمال حفظہ اللہ
شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 101 صفحہ نمبر 47
------------------
1: بعض لوگ صفر کے مہینے کو بدشگونیوں والا مہینہ سمجھتے ہیں، اس میں شادی بیاہ نہیں کرتے، طرح طرح کی توہمات میں مبتلا رہتے ہیں اور کاروبار وغیرہ کی ابتدا کرنے سے بھی اجتناب کرتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَ لاَ صَفَرَ» اور صفر (کی کوئی نحوست یا بیماری) نہیں۔ [صحيح بخاري: 5757]
نیز دیکھئے مولانا محترم محمد ارشد کمال حفظہ اللہ کی عظیم ومفید کتاب: اسلامی مہینے اور ان کا تعارف (ص80۔ 82)
➋ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صفر میں ’’تیرہ تیزی“ ہوتی ہے اور سخت مصیبتوں، بلاؤں اور بیماریوں کانزول ہوتا ہے۔
یہ سمجھناسراسر غلط، جہالت اور توہم پرستی کا شاخسانہ ہے۔
➌ بعض لوگ خاص طور پر صفر کے مہینے میں مکڑی کے جالے صاف کرتے ہیں، حالانکہ اس خاص کام کی کوئی دلیل نہیں اور صفائی تو ہر مہینے اور ہر دن رات میں بہتر ہے۔
➍ بعض لوگ صفر کے آخری بدھ میں چُوری پکاتے ہیں اور قصے کہانیاں بیان کرتے ہیں، حا لانکہ شریعت میں اس بات کی کوئی اصل موجود نہیں۔
➎ یاد رہے کہ ماہِ صفر کی خاص فضیلت کے بارے میں کوئی صحیح حدیث موجود نہیں۔
➏ صفر کے مہینے میں مدائن فتح ہوا، جنگِ صفین ہوئی۔
اور درج ذیل ائمہ محدثین فوت ہوئے: امام اوزاعی، امام یحیٰ بن سعید القطان، امام علی (بن موسیٰ) الرضا، امام طبرانی، امام ابن شاہین، امام نسائی رحمہ اللہ، محدث حاکم نیشاپوری، سلطان صلاح الدین ایوبی وغیرہم رحمہم اللہ
تفصیل کے لئے دیکھئے اسلامی مہینے اور ان کا تعارف (ص91۔ 95)
تحریر: حبیب الرحمن ہزاروی
شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 112 صفحہ نمبر 46 تا 47
------------------
ماہِ صفر اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے۔ اس مہینے کو صفر اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں شہر خالی ہو جاتے اور لوگ لڑائیوں کے لئے نکل پڑتے۔
ماہِ صفر اور بدشگونی
بعض کمزور عقیدے کے لوگ اس مہینے سے بدشگونی لیتے ہیں۔ بدشگونی لینے کا مطلب ہے کہ کسی چیز کو خیر و برکت سے خالی سمجھنا، مثلاًً کسی کام کی ابتداء نہ کرنا، کاروبار کا آغاز نہ کرنا، شادی بیاہ کرنے سے گریز کرنا، لڑکیوں کی رخصتی نہ کرنا۔ ان لوگوں کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ ہر وہ کام جو اس مہینے میں شروع کیا جائے وہ منحوس اور خیر و برکت سے خالی ہوتا ہے۔
بدشگونی لینے کی وجوہات
بدشگونی لینے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا یہ عقیدہ ہوتا تھا کہ اس مہینے میں بلاؤں اور دیگر شرور وفتن کا نزول ہوتا ہے اور اس کے بارے میں بعض موضوع احادیث کاسہارا لیتے ہیں۔ مثلاًً دیکھئے: [موضوعات الكبريٰ ح886]
دوسری وجہ یہ ہے کہ دورِ جاہلیت میں ماہِ محر م میں جنگ و جدال کو حرام سمجھا جاتا تھا اور یہ حر مت قتال ماہِ صفر تک برقرار رہتی۔ لیکن جب صفر کا مہینہ آ جاتا تو جنگ و جدال دوبارہ شروع ہو جاتے، لہٰذا یہ مہینہ منحوس سمجھا جاتا ہے۔
ماہِ صفر سے بد شگونی لینے کی تردید
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا عدوٰي ولا طيرة ولا هامة ولا صفر»
کوئی بیماری متعدی نہیں، نہ بدشگونی کوئی چیز ہے۔ اُلو کی کوئی حقیقت نہیں اور نہ ہی صفر میں نحوست ہے۔ [صحيح بخاري: 5757]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الطيرة شرك، الطيرة شرك ثلاثًا و ما منا الا ولٰكن اللّٰه يذهبه بالتوكل»
بدشگونی لینا شرک ہے، بدشگونی لینا شرک ہے۔ یہ جملہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا۔ اور ہم میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی وہم ہو ہی جاتا ہے مگر اللہ رب العزت اس کو توکل سے دور کر دیتا ہے۔ [سنن ابي داود: 3910]
آخر میں ہاتھ پاؤں کی انگلیاں جھڑ جاتی ہیں۔
ہر چند مرض کا پورا ہونا بہ حکم الٰہی ہے مگر جذامی کے ساتھ خلط ملط اور یکجائی اس کا سبب ہے اور سبب سے پرہیز کرنا مقتضائے دانشمندی ہے یہ توکل کے خلاف نہیں ہے۔
جب یہ اعتقاد ہو کہ سبب اس وقت اثر کرتا ہے جب مسبب الاسباب یعنی پروردگار اس میں اثر دے۔
بعضوں نے کہا آپ نے پہلے فرمایا جذامی سے بھاگتا رہ یہ اس کے خلاف نہیں ہے آپ کا مطلب یہ تھا کہ اکثر شر سے ڈرنے والے کمزور لوگ ہوتے ہیں ان کو جذامی سے الگ رہنا ہی بہتر ہے ایسا نہ ہو کہ ان کو کوئی عارضہ ہو جائے تو علت اس کی جذامی کا قرب قرار دیں اور شرک میں گرفتار ہوں گویا یہ حکم عوام کے لیے ہے اور خواص کو اجازت ہے وہ جذامی سے قرب رکھیں تو بھی کوئی قباحت نہیں ہے۔
حدیث میں ہے کہ آپ نے جذامی کے ساتھ کھانا کھایا اورفرمایا ''کُل بسمِ اللہِ ثقة باللہِ وتَوکلا عَلیهِ“ طاعون زدہ شہروں کے لیے بھی یہی حکم ہے۔
علامہ ابن قیم نے ”زاد المعاد“ میں لکھا ہے کہ احادیث میں تعدیہ کی نفی اوہام پرستی کو ختم کرنے کے لیے کی گئی ہے۔
یعنی یہ سمجھنا کہ بیماری اڑ کر لگ جاتی ہے اور بیماریوں میں تعدیہ اس حیثیت سے قطعاً نہیں ہے۔
اصلاً تعدیہ کا انکار مقصود نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بہت سی بیماریوں میں تعدیہ پیدا کیا ہے۔
اس لیے اس باب میں اوہام پرستی نہ کرنی چاہیے۔
''ھامة'' کا اعتقاد عرب میں اس طرح تھا کہ وہ بعض پرندوں کے متعلق سمجھتے تھے کہ اگروہ کسی جگہ بیٹھ کر بولنے لگے تووہ جگہ اجاڑ ہو جاتی ہے۔
شریعت نے اس کی تردید کی کہ بننا اور بگڑنا کسی پرندے کی آواز سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے چاہنے سے ہوتا ہے۔
الو کے متعلق آج تک عوام جہلاء کا یہی خیال ہے۔
بعض شہد کی مکھیوں کے چھتہ کے بارے میں ایسا وہم رکھتے ہیں یہ سب خیالات فاسدہ ہیں مسلمان کو ایسے خیالات باطلہ سے بچنا ضروری ہے۔
(1)
بیماری، اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے مگر کوڑھی آدمی کے ساتھ میل ملاپ اس کا ایک سبب ہے، جب اللہ تعالیٰ اس میں اثر پیدا کر دے۔
اسبابِ بیماری سے پرہیز کرنا توکل کے منافی نہیں۔
کمزور عقیدہ رکھنے والوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجذوم آدمی سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو تاکہ اللہ کی تقدیر کے سبب بیماری لگ جانے سے ان کے عقیدے میں خرابی نہ آئے ایسا نہ ہو کہ وہ کہنے لگیں: یہ بیماری ہمیں فلاں آدمی سے لگی ہے۔
گویا یہ حکم عوام کے لیے ہے اور جس کا عقیدہ مضبوط ہو اسے جذامی کے ساتھ کھانے پینے اور ملنے جلنے کی اجازت ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جذامی آدمی کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور فرمایا: ’’اللہ کا نام لے کر، اس پر اعتماد اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ۔
‘‘ (جامع الترمذي، الأطعمة، حدیث: 1817)
یہ روایت اگرچہ سنداً ضعیف ہے، تاہم صاحب ایمان و یقین کے لیے جائز ہے کہ وہ ایسے آدمی کے ساتھ مل کر کھانا کھائے لیکن ایسے مریض کو ٹکٹکی باندھ کر نہیں دیکھنا چاہیے تاکہ اس کا دل نہ دکھے جیسا کہ روایت میں ہے: ’’جذام کے مریضوں کو ٹکٹکی باندھ کر مت دیکھو۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الطب، حدیث: 3543)
(2) جزام کی بیماری والے شخص کو چاہیے کہ وہ عام لوگوں سے الگ رہے تاکہ دوسروں کو اس سے تکلیف نہ ہو، چنانچہ حدیث میں ہے کہ قبیلۂ ثقیف میں ایک مجذوم تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیغام بھیجا: ’’تم واپس چلے جاؤ۔
ہم نے تیری بیعت قبول کر لی ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5822 (2231)
اچھی فال کی وضاحت حدیث میں کر دی گئی ہے کہ وہ اچھی بات جو آدمی کسی سے بلا ارادہ سنتا ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کسی شے سے بدشگونی نہیں لیا کرتے تھے۔
آپ جب کسی عامل کو روانہ کرتے تو اس کا نام دریافت کرتے، اگر نام پسند آ جاتا تو خوش ہوتے اور خوشی کے اثرات چہرے پر نمایاں ہوتے اور اگر نام پسند نہ آتا تو ناپسندیدگی کے اثرات بھی چہرے پر ظاہر ہوتے۔
(سنن أبي داود، الطب، حدیث: 3920)
جائز فال کی وضاحت ہم مذکورہ عنوان کے تحت کر آئے ہیں۔
واللہ أعلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے، نہ نچھتر کوئی چیز ہے، اور نہ صفر کے مہینہ میں نحوست ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3912]
1) اہلِ عرب کے توہمات میں یہ بات بھی تھی کہ اگر کو ئی قتل ہو جائے اور اس کا بدلہ نہ لیا جائے تو اس مردے کی کھوپڑی سے ایک پرندہ (اُلو) نکلتا ہے جو اس کے اُوپر منڈلاتا رہتا ہے اورآواز لگاتا ہے، پیاس، پیاس۔
اگر بدلہ لے لیا جائے تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے ورنہ نہیں۔
اس وہم کی بنا پر وہ لوگ جیسے بھی بن پڑتا بدلہ لینے پر اصرار کرتے تھے۔
2) کچھ لوگ صفر کو مہینے کو منحوس جانتے تھے اور اس میں اہم کام سر انجام نہیں دیتے تھے۔
اس کا ایک دووسرا مفہہوم اگلی روایت 3914 میں آرہا ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کوئی پیاری متعدی نہیں ہے، اور یہی بات حق ہے، ڈاکٹر حضرات کا لوگوں کو ڈرا نا کہ جراثیم ہوتے ہیں، وہ آگے پھیل جاتے ہیں، یہی بیماری آ گے چلی جائے گی، اس لیے اپنے مریض سے دور رہیں۔ یہ سب یاوہ گوئی ہے، کسی بیماری میں سے منتقل ہونے کی طاقت ہی نہیں ہے، جب اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ایک پتہ بھی حرکت نہیں کر سکتا، تو بیماری کیسے آگے منتقل ہو سکتی ہے، بلکہ یہ بات بھی سمجھنے کے قابل ہے کہ جب جسم کے ایک حصے میں درد اور تکلیف ہے، وہ دوسرے عضو میں نہیں جاسکتی (مثلا اگر شہادت والی انگلی میں درد ہے تو در دانگو ٹھے میں نہیں جاتی۔۔۔۔) تو کیسے ممکن ہے کہ بیماری ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو جائے، دنیا کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے
نیز اس حدیث میں غلط طریقے سے فال نکالنے کی مذمت بیان کی گئی ہے، زمانہ جاہلیت میں بعض لوگ کام کرنے سے پہلے پرندہ اڑاتے، پھر اچھی یا بری فال لے کر کام کرتے یا نہ کرتے۔ یہاں بطور تنبیہ عرض ہے کہ قرآن و حدیث زمانہ جاہلیت کی جہالتوں کا زبردست رد کرتا ہے لیکن افسوس کہ امت مسلمہ کی اکثریت جاہلوں کی جہالت پرعمل کرتی نظر آتی ہے، کوئی کبوتر سے فال نکلوا رہا ہے، تو کوئی اپنے ہاتھ کی لکیروں سے قسمت معلوم کر رہا ہے، یہ سب زمانہ جاہلیت کے کام ہیں، انھی کاموں سے شریعت منع کرتی ہے لیکن افسوس کے بعض مسلمان انھی جاہلانہ کاموں کو بڑے فخر سے کرتے ہیں، اور قرآن و حدیث کی کچھ پروا نہیں کرتے۔
نیز اس حدیث میں اونٹوں کی مثال سے ثابت ہوا کہ سائل یا مخاطب کو وہی مثال دینی چاہیے جس کو وہ اچھی طرح سمجھ سکیں، اور اس مثال کا انہی لوگوں کے ساتھ تعلق بھی ہو، کسانوں کو سائنسدانوں کی مثال شاید سمجھ میں نہ آئے، فافهم۔