سنن ابي داود
كتاب الكهانة والتطير— کتاب: کہانت اور بدفالی سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الطِّيَرَةِ باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3910
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَيْسَى بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الطِّيَرَةُ شِرْكٌ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ ثَلَاثًا ، وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : ” بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے لیکن اللہ اس کو توکل سے دور فرما دیتا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ” بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے لیکن اللہ اس کو توکل سے دور فرما دیتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3910]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ” بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے لیکن اللہ اس کو توکل سے دور فرما دیتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3910]
فوائد ومسائل:
ذہن میں بے ساختہ اگر کسی بد شگونی کا کو ئی وہم آئے تو یہ معاف ہے چاہیئے کہ بندہ اس کے خلاف کرتے ہوئے اللہ عزوجل پر توکل کرے۔
ذہن میں بے ساختہ اگر کسی بد شگونی کا کو ئی وہم آئے تو یہ معاف ہے چاہیئے کہ بندہ اس کے خلاف کرتے ہوئے اللہ عزوجل پر توکل کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3910 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1614 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بدشگونی اور بدفالی کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بدفالی شرک ہے “ ۱؎۔ (ابن مسعود کہتے ہیں) ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے دل میں اس کا وہم و خیال نہ پیدا ہو، لیکن اللہ تعالیٰ اس وہم و خیال کو توکل کی وجہ سے زائل کر دیتا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1614]
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بدفالی شرک ہے “ ۱؎۔ (ابن مسعود کہتے ہیں) ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے دل میں اس کا وہم و خیال نہ پیدا ہو، لیکن اللہ تعالیٰ اس وہم و خیال کو توکل کی وجہ سے زائل کر دیتا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1614]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ اعتقاد رکھنا کہ طیرہ یعنی بدفالی نفع یا نقصان پہنچانے میں موثر ہے شرک ہے، اور اس عقیدے کے ساتھ اس پر عمل کرنا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، اس لیے اس طرح کا خیال آنے پر ’’لا إله إلا الله‘‘ پڑھنا بہتر ہوگا، کیوں کہ جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اسے پڑھنے اور اللہ پر توکل کرنے کی وجہ سے اللہ یہ خیال اس سے دور فرما دے گا۔
وضاحت:
1؎:
یہ اعتقاد رکھنا کہ طیرہ یعنی بدفالی نفع یا نقصان پہنچانے میں موثر ہے شرک ہے، اور اس عقیدے کے ساتھ اس پر عمل کرنا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، اس لیے اس طرح کا خیال آنے پر ’’لا إله إلا الله‘‘ پڑھنا بہتر ہوگا، کیوں کہ جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اسے پڑھنے اور اللہ پر توکل کرنے کی وجہ سے اللہ یہ خیال اس سے دور فرما دے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1614 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3538 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نیک فال لینا اچھا ہے اور بدفالی مکروہ۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بدشگونی شرک ہے ۱؎ اور ہم میں سے جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کی وجہ سے یہ خیال دور کر دے گا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3538]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بدشگونی شرک ہے ۱؎ اور ہم میں سے جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کی وجہ سے یہ خیال دور کر دے گا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3538]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: اگر کسی موقع پر دل میں بدشگونی کا تصور پیدا ہوجائے۔
تو اس کا علاج اللہ پر توکل ہے یعنی یہ حقیقت ذہن میں لائی جائے کہ خیر وشر کا مالک اللہ ہے۔
یہ پرندے او دوسری مخلوقات کسی مصیبت کاباعث نہیں۔
فوائد ومسائل: اگر کسی موقع پر دل میں بدشگونی کا تصور پیدا ہوجائے۔
تو اس کا علاج اللہ پر توکل ہے یعنی یہ حقیقت ذہن میں لائی جائے کہ خیر وشر کا مالک اللہ ہے۔
یہ پرندے او دوسری مخلوقات کسی مصیبت کاباعث نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3538 سے ماخوذ ہے۔