حدیث نمبر: 3909
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ ؟ ، قَالَ : كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خط کھینچتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” انبیاء میں ایک نبی تھے جو خط کھینچتے تھے تو جس کا خط ان کے خط کے موافق ہوا تو وہ ٹھیک ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3909
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (537)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (930)، (تحفة الأشراف: 11378) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رمل اور پرندہ اڑا نے کا بیان۔`
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خط کھینچتے ہیں، آپ نے فرمایا: انبیاء میں ایک نبی تھے جو خط کھینچتے تھے تو جس کا خط ان کے خط کے موافق ہوا تو وہ ٹھیک ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3909]
فوائد ومسائل:
لکیروں کا علم ابتدا میں ایک نبی کے پاس تھا، مگر بعد میں یہ جاری نہیں رہ سکا۔
تو اب کوئی کیونکر یہ دعوٰی کرسکتا ہے کہ یہ بالکل وہی ہے جو اس نبی کے پاس تھا، بلکہ اس کے وہم اور مشتبہ ہو نے کا یقین ہے۔
اس لیئے اس سے بچنا واجب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3909 سے ماخوذ ہے۔