حدیث نمبر: 3908
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ عَوْفٌ : " الْعِيَافَةُ زَجْرُ الطَّيْرِ وَالطَّرْقُ الْخَطُّ يُخَطُّ فِي الْأَرْضِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عوف کہتے ہیں` «عيافة» سے مراد پرندہ اڑانا ہے اور «طرق» سے مراد وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں ( اور جسے رمل کہتے ہیں ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3908
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رمل اور پرندہ اڑا نے کا بیان۔`
عوف کہتے ہیں «عيافة» سے مراد پرندہ اڑانا ہے اور «طرق» سے مراد وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں (اور جسے رمل کہتے ہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3908]
فوائد ومسائل:
دورِ جاہلیت میں ایسے ہو تا تھا کہ آدمی گھر سے نکلتا تو کسی پرندے کو اپنے دائیں جانب اُڑتا دیکھتا تو اسے اپنے لیئے سعد (باعثِ برکت) سمجھتا اور اگر وہ بائیں جانب جا رہا ہوتا تو اسے نحس (بے برکت) سمجھتا۔
اس مقصد کے لیئے وہ لوگ کبھی پرندے کو از خود بھی اُڑاتے تھے۔
کسی بھی صاحبِ ایمان کے لیئے یہ عمل ناجائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3908 سے ماخوذ ہے۔