حدیث نمبر: 3904
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ حَكِيمٍ الأَثْرَمِ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَتَى كَاهِنًا " ، قَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ : فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ ثُمَّ اتَّفَقَا أَوْ أَتَى امْرَأَةً ، قَالَ مُسَدَّدٌ : امْرَأَتَهُ حَائِضًا أَوْ أَتَى امْرَأَةً ، قَالَ مُسَدَّدٌ : امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی کاہن کے پاس آئے پھر جو وہ کہے اس کی تصدیق کرے ، یا حائضہ عورت کے پاس آئے یا اپنی عورت کے پاس اس کی پچھلی شرمگاہ میں آئے تو وہ ان چیزوں سے بری ہو گیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئیں ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الكهانة والتطير / حدیث: 3904
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (4599), أخرجه الترمذي (135 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (639 وسنده حسن) حكيم الأثرم حسن الحديث، وللحديث شاھد عند مسلم (2230)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الطھارة 102 (135)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 122 (639)، (تحفة الأشراف: 13536)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/86، 2/408، 476، 6/305)، سنن الدارمی/الطھارة 113 (259) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´غیب کی باتیں بتانے والے (کاہن) کے پاس جانا۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کاہن کے پاس آئے پھر جو وہ کہے اس کی تصدیق کرے، یا حائضہ عورت کے پاس آئے یا اپنی عورت کے پاس اس کی پچھلی شرمگاہ میں آئے تو وہ ان چیزوں سے بری ہو گیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئیں ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3904]
فوائد ومسائل:
1) کاہنوں یقنی مستقبل اور غیب کی خبریں بتانے والوں نجومیوں دست شناسوں اور اس قماش کے لوگوں کے پاس جانا ان سے خبریں دریافت کرنا اور پھر ان کی تصدیق کرنا حرام ہے۔

2) ایامِ حیض میں مباشرت حرام ہے، ہاں اگر کسی کو اپنے اُوپر ضبط ہویا بڑی عمر کا آدمی ہو تو اس کے لیئے بیوی کے ساتھ لیٹنے میں کوئی حرج نہیں۔

3) غیر فطری طریقے سے مباشرت بھی حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3904 سے ماخوذ ہے۔