حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مَنْ أَسْلَمَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لُدِغْتُ اللَّيْلَةَ فَلَمْ أَنَمْ حَتَّى أَصْبَحْتُ ، قَالَ : " مَاذَا ؟ " قَالَ : عَقْرَبٌ ، قَالَ : " أَمَا إِنَّكَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، لَمْ تَضُرَّكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " .
´ابوصالح کہتے ہیں کہ` میں نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص سے سنا : اس نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آج رات مجھے کسی چیز نے کاٹ لیا تو رات بھر نہیں سویا یہاں تک کہ صبح ہو گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کس چیز نے ؟ “ اس نے عرض کیا : بچھو نے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو اگر تم شام کو یہ دعا پڑھ لیتے : «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» ” میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کی برائی سے “ تو ان شاءاللہ ( اللہ چاہتا تو ) وہ تم کو نقصان نہ پہنچاتا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص سے سنا: اس نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آج رات مجھے کسی چیز نے کاٹ لیا تو رات بھر نہیں سویا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کس چیز نے؟ “ اس نے عرض کیا: بچھو نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سنو اگر تم شام کو یہ دعا پڑھ لیتے: «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» ” میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کی برائی سے “ تو ان شاءاللہ (اللہ چاہتا تو) وہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3898]
اصل شرعی اور مسنون تعویذ یہی اذکار ہیں جو بندے کو اپنے رب سے جوڑ دیتے ہیں اور انسان اپنے اللہ کی حفاظت اور امان میں آجاتا ہے۔
ان میں بنیادی بات ایمان یقین رزقِ حلال اور صدق مقال کی ہے۔
اور تعویز صبح شام دونوں وقت پابندی سے پڑھنا چاہیئے اور بچوں پر دم کرنے چاہییں، لکھ کر لٹکا نے کا رواج بہت بعد میں ہو ا ہے۔
عہد خیر القرون میں اس کا ثبوت نہیں ملتا۔