حدیث نمبر: 3897
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ،حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ مَرَّ قَالَ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمَهَا جَمَعَ بُزَاقَهُ ، ثُمَّ تَفَلَ فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْهُ شَيْئًا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُسَدَّدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´خارجہ بن صلت سے روایت ہے ، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ` وہ ( کچھ لوگوں پر سے ) گزرے ( ان میں ایک دیوانہ شخص تھا ) جس پر وہ صبح و شام فاتحہ پڑھ کر تین دن تک دم کرتے رہے ، جب سورۃ فاتحہ پڑھ چکتے تو اپنا تھوک جمع کر کے اس پر تھو تھو کر دیتے ، پھر وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی رسیوں میں جکڑا ہوا کھل جائے ، تو ان لوگوں نے ایک چیز دی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، پھر انہوں نے وہی بات ذکر کی جو مسدد کی حدیث میں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطب / حدیث: 3897
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (3420)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (3420)، (تحفة الأشراف: 11011) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جھاڑ پھونک کیسے ہو؟`
خارجہ بن صلت سے روایت ہے، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (کچھ لوگوں پر سے) گزرے (ان میں ایک دیوانہ شخص تھا) جس پر وہ صبح و شام فاتحہ پڑھ کر تین دن تک دم کرتے رہے، جب سورۃ فاتحہ پڑھ چکتے تو اپنا تھوک جمع کر کے اس پر تھو تھو کر دیتے، پھر وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی رسیوں میں جکڑا ہوا کھل جائے، تو ان لوگوں نے ایک چیز دی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر انہوں نے وہی بات ذکر کی جو مسدد کی حدیث میں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3897]
فوائد ومسائل:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں اسلام لانے کے بعد پہلے ہی دن سےاپنے رزق میں حلال و حرام کے امتیاز کا داعیہ اور جذبہ پیدا ہو جاتا تھا۔
اور وہ اس میں انتہائی احتیاط کرتے تھے اور یہی چیز دُعاؤں کی قبولیت و تاثیر کا انہتائی اہم عُنصر ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3897 سے ماخوذ ہے۔