مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 3874
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الأَنْصَارِيِّ ،عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الدَّاءَ وَالدَّوَاءَ وَجَعَلَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً فَتَدَاوَوْا وَلَا تَدَاوَوْا بِحَرَامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے بیماری اور دوا ( علاج ) دونوں اتارا ہے اور ہر بیماری کی ایک دوا پیدا کی ہے لہٰذا تم دوا کرو لیکن حرام سے دوا نہ کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطب / حدیث: 3874
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ثعلبة بن مسلم روي عنه جماعة ولم يوثقه غير ابن حبان وقال الحافظ : مستور (تق : 846) وباقي السند حسن, والحديث صححه ابن الملقن (تحفة المحتاج : 2847) ولبعض الحديث شاھد صحيح (تقدم،الأصل : 3855), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ناجائز اور مکروہ دواؤں کا بیان۔`
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے بیماری اور دوا (علاج) دونوں اتارا ہے اور ہر بیماری کی ایک دوا پیدا کی ہے لہٰذا تم دوا کرو لیکن حرام سے دوا نہ کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3874]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سنداَ ضعیف ہے، تاہم دوسری احادیث سے اس بات کی تائید ہو تی ہے کہ حرام اشیاء مثلاََ شراب اور نشہ آور اشیاء اور زہروں وغیرہ سے علاج جائز نہیں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3874 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔