حدیث نمبر: 3868
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّشْرَةِ ؟ ، فَقَالَ : هُوَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «نشرہ» ۱؎ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” یہ شیطانی کام ہے “ ۔

وضاحت:
۱؎: «نشرہ» ایک منتر ہے جس سے آسیب زدہ لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطب / حدیث: 3868
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4553)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3133)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/294) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نشرہ کی ممانعت کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «نشرہ» ۱؎ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: " یہ شیطانی کام ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3868]
فوائد ومسائل:
جن یا جادو اُتارنے کے لیئےشرکیہ اور جاہلانہ منتر پڑھنا پڑھوانا نشرہ کہلاتا ہے جو حرام اور ناجائز ہے۔
اس مقصد کے لیئے آیتِ قرآنیہ ماثور دُعائیں اور مسنون اذکار اختیار کیئے جائیں جو جائز اور مطلوب عمل ہے، جیسے کے خود رسول اللہﷺ پر جادو ہوا تومعوذتین (قل أعوذ برب الفلق) اور (قل أعوذ برب الناس) نازل کی گئیں تھیں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3868 سے ماخوذ ہے۔