سنن ابي داود
كتاب الطب— کتاب: علاج کے احکام و مسائل
باب مَتَى تُسْتَحَبُّ الْحِجَامَةُ باب: کب پچھنا لگوانا مستحب ہے؟
حدیث نمبر: 3862
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَخْبَرَتْنِي عَمَّتِي كَبْشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرَةَ ، وَقَالَ غَيْرُ مُوسَى : كَيِّسَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ أَبَاهَا كَانَ " يَنْهَى أَهْلَهُ عَنِ الْحِجَامَةِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ ، وَيَزْعُمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ يَوْمُ الدَّمِ وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَرْقَأُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کبشہ بنت ابی بکرہ نے خبر دی ہے ۱؎ کہ` ان کے والد اپنے گھر والوں کو منگل کے دن پچھنا لگوانے سے منع کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے : ” منگل کا دن خون کا دن ہے اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں خون بہنا بند نہیں ہوتا “ ۔
وضاحت:
۱؎: اور موسی کے علاوہ دوسرے لوگوں کی روایت میں «کبشہ» کے بجائے «کیّسہ» ہے۔