حدیث نمبر: 386
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ يَعْنِي الصَّنْعَانِيَّ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ،عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَاهُ ، قَالَ : إِذَا وَطِئَ الْأَذَى بِخُفَّيْهِ ، فَطَهُورُهُمَا التُّرَابُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس طریق سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی اپنے خف ( موزوں ) سے نجاست کو روندے تو ان کی پاکی مٹی ہے ( یعنی بعد والی زمین جس پر وہ چلے گا وہ اسے پاک کر دے گی ) “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 386
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن كثير الصنعاني: ضعيف لكثرة خطائه،ضعفه الجمھور واختلط أيضًا،انظر تحرير تقريب التهذيب (6251) ونھاية الإغتباط (105) ومع ذلك صححه ابن خزيمة (292) وابن حبان (248)!, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 14329) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جوتے میں نجاست لگ جائے تو کیا کرے؟`
اس طریق سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے خف (موزوں) سے نجاست کو روندے تو ان کی پاکی مٹی ہے (یعنی بعد والی زمین جس پر وہ چلے گا وہ اسے پاک کر دے گی)۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 386]
386۔ اردو حاشیہ:
جوتے اور چمڑے کے موزے کو غلاظت لگ جائے، خواہ وہ سیال بھی ہو تو پاک مٹی پر اسے رگڑنا اس کے لیے پاگیزگی ہے، بشرطیکہ بظاہر اس پر کوئی اثر باقی نہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 386 سے ماخوذ ہے۔