حدیث نمبر: 3852
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ وَلَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص سو جائے اور اس کے ہاتھ میں گندگی اور چکنائی ہو اور وہ اسے نہ دھوئے پھر اس کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3852
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (4219)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12656)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 48 (1860)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 22 (3296)، مسند احمد (2/263، 537)، سنن الدارمی/الأطعمة 27 (2107) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1859 | سنن ترمذي: 1860 | سنن ابن ماجه: 3297 | معجم صغير للطبراني: 637

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کھانا کھا کر ہاتھ دھونے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سو جائے اور اس کے ہاتھ میں گندگی اور چکنائی ہو اور وہ اسے نہ دھوئے پھر اس کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3852]
فوائد ومسائل:
فائدہ: کھانےکے بعد ہاتھ دھونا مستحب ہے۔
بالخصوص سونے سے پہلے چکنائی کی بو پاکر کوئی کیڑا مکوڑا بھی کاٹ سکتا ہے۔
اور یہ کھانا خراب ہوکر کسی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔
اس لئے کھانے کے بعد صرف ہاتھ ہی نہیں بلکہ منہ بھی صاف کر لینا چاہیے۔
جس کا ذکر دوسری احادیث میں ملتا ہے۔
اسلام ہر حالت میں نضافت اور پاکیزگی کی تاکید کرتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3852 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1860 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´چکنائی کی بو والے ہاتھوں کے ساتھ سونے کی کراہت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1860]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی کھانے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھولو، کیوں کہ نہ دھونے سے کھانے کی بوہاتھوں میں باقی رہے گی، جو جن وشیاطین کو اپنی طرف مائل کرے گی، اور ایسی صورت میں ایسا شخص کسی مصیبت سے دوچار ہوسکتا ہے، اس لیے سوتے وقت اس کا خاص خیال رکھناچاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1860 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1859 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´چکنائی کی بو والے ہاتھوں کے ساتھ سونے کی کراہت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان بہت تاڑنے اور چاٹنے والا ہے، اس سے خود کو بچاؤ، جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1859]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں یعقوب بن ولید مدنی کذاب راوی ہے، لیکن اس آخری ٹکڑا اگلی حدیث سے صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1859 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3297 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´رات سو کر اٹھنے والے کے ہاتھ میں (کھانے یا گوشت کی) چکنائی کی بو ہو تو کیسا ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب اس حالت میں سوئے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، اور اس نے اپنا ہاتھ نہ دھویا ہو، پھر اسے کسی چیز نے نقصان پہنچایا تو وہ خود اپنے ہی کو ملامت کرے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3297]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھو لینے چاہییں۔

(2)
گھی والا کھانا یا مٹھائی وغیرہ کھا کر بغیر ہاتھ دھوئے سونامنع ہے۔

(3)
اس ممانعت میں یہ حکمت ہے کہ چکنائی کی بو کی وجہ سے چیونٹیاں بستر پر آسکتی ہیں ان سے سونے والے کو نقصان یا تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہے۔
بعض اوقات چوہا وغیرہ بھی کاٹ لیتا ہے جو خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے۔

(4)
روز مرہ معاملات میں ایسے کاموں سے پرہیز کرنا چاہیے جن سے نقصان کا خطرہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3297 سے ماخوذ ہے۔