حدیث نمبر: 3842
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي السَّمْنِ فَإِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ " ، قَالَ الْحَسَنُ : قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وَرُبَّمَا حَدَّثَ بِهِ مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب چوہیا گھی میں گر جائے تو اگر گھی جما ہو تو چوہیا اور اس کے اردگرد کا حصہ پھینک دو ( اور باقی کھا لو ) اور اگر گھی پتلا ہو تو اس کے قریب مت جاؤ “ ۔ حسن کہتے ہیں : عبدالرزاق نے کہا : اس روایت کو بسا اوقات معمر نے : «عن الزهري عن عبيدالله بن عبدالله عن ابن عباس عن ميمونة عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» کے طریق سے بیان کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3842
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الزهري عنعن ومعمر خالفه الثقات فيه, والحديث ضعفه البخاري والترمذي وغيرھما, انظر الحديث الآتي (3843), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 137
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13303، 18065) (شاذ)ط (کیوں کہ معمر کے سوا زہری کے اکثر تلامذہ اس کو میمونہ کی حدیث سے اور بغیر تفصیل کے روایت کرتے ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 655

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 655 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب چوہا گھی میں گر جائے، اگر گھی منجمد ہو تو اس چوہے کو اور اس کے اردگرد کے گھی کو باہر پھینک دو اور اگر گھی سیال ہو تو اس کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ بخاری اور ابوحاتم نے اس پر وہم کا حکم لگایا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 655»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الأطعمة، باب في الفأرة تقع في السمن، حديث:3842، وأحمد:2 /232، 265، 490. * الزهري مدلس وعنعن، و معمر خالفه الثقات فيه.»
تشریح: 1.مذکورہ حدیث میں متاثرہ گھی کو باہر پھینکنے اور اس کے قریب نہ پھٹکنے کا حکم اس بات کی دلیل ہے کہ نجس چکنائی (گھی‘ تیل) سے انتفاع مطلقاً جائز نہیں۔
لیکن پہلے یہ بیان ہو چکا ہے کہ انتفاع کا باب‘ بیع کے باب سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
تمام دلائل میں تطبیق یوں ہے کہ یہ ممانعت صرف انسان کے کھانے اور بطور تیل استعمال کرنے پر محمول ہے۔
جب اس کا کھانا اور بطور تیل استعمال کرنا درست نہیں تو اسے فروخت کر کے اس کی قیمت کھانا بالاولیٰ حرام ہے۔
2. جامد اور مائع کا فرق اس لیے ہے کہ جامد میں تمیز ہو سکتی ہے کہ چوہا کتنے حصے کو لگا ہے۔
جبکہ مائع میں اس کا امکان نہیں کہ کس اور کتنے حصے سے چوہے کا بدن لگا ہے۔
3. امام بخاری اور ابوحاتم رحمہما اللہ نے اس پر وہم کا حکم لگایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ حدیث میمونہ کی مسند ہے‘ مسندابی ہریرہ نہیں ہے‘ لہٰذا اس پر وہم کا حکم سند کے اعتبار سے ہے متن کے اعتبار سے نہیں۔
4. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین اس کی بابت لکھتے ہیں «مَتْنُ الْحَدِیثِ صَحِیحٌ» ’’مذکورہ حدیث کا متن صحیح ہے‘‘ لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد وغیرہ کی بناپر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد: ۱۲ /۱۰۱. ۱۰۳)
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 655 سے ماخوذ ہے۔