حدیث نمبر: 384
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ،عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِدِ مُنْتِنَةً ، فَكَيْفَ نَفْعَلُ إِذَا مُطِرْنَا ؟ قَالَ : " أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا ؟ . قَالَتْ : قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَهَذِهِ بِهَذِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قبیلہ بنو عبدالاشھل کی ایک عورت کہتی ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارا مسجد تک جانے کا راستہ غلیظ اور گندگیوں والا ہے تو جب بارش ہو جائے تو ہم کیا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا اس کے آگے پھر کوئی اس سے بہتر اور پاک راستہ نہیں ہے ؟ “ ، میں نے کہا : ہاں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو یہ اس کا جواب ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی پاک و صاف راستے میں چلنے سے کپڑا پاک ہو جائے گا جیسے پہلے گندے راستہ سے ناپاک ہو گیا تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 384
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (512)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الطھارة 79 (533)،(تحفة الأشراف: 18380)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/435) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دامن میں گندگی لگ جائے تو کیا کرے؟`
قبیلہ بنو عبدالاشھل کی ایک عورت کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا مسجد تک جانے کا راستہ غلیظ اور گندگیوں والا ہے تو جب بارش ہو جائے تو ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے آگے پھر کوئی اس سے بہتر اور پاک راستہ نہیں ہے؟، میں نے کہا: ہاں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کا جواب ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 384]
384۔ اردو حاشیہ:
کسی نجس جگہ سے گزرتے ہوئے پاؤں، جوتا یا کپڑا اس سے گزر جائے اور بعد ازاں خشک مٹی پر سے گزر ہو تو اسے پاک سمجھا جائے۔ لیکن اگر نجاست سائلہ یعنی بہنے والی (پیشاب) کے چھینٹے پڑے ہوں تو دھونا ہو گا۔ البتہ جوتا رگڑنے سے پاک ہو جاتا ہے۔ سنن ابوداود کا درج ذیل اگلا باب ملاحظہ ہو، جوتے کو نجاست لگ جائے تو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 384 سے ماخوذ ہے۔