حدیث نمبر: 3837
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مَزْيَدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ ، قَالَا : " دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَدَّمْنَا زُبْدًا وَتَمْرًا ، وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ وَالتَّمْرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بسر سلمی کے لڑکے عبداللہ و عطیہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کیا ، آپ مکھن اور کھجور پسند کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3837
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (4232), أخرجه ابن ماجه (3334 وسنده صحيح) ابنا بسر سلميين ھما عبد الله بن بسر وعطية بن بسر رضي الله عنھما
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأطعمة 43 (3334)، (تحفة الأشراف: 5192) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دو قسم کے کھانے ایک ساتھ کھانے کا بیان۔`
بسر سلمی کے لڑکے عبداللہ و عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کیا، آپ مکھن اور کھجور پسند کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3837]
فوائد ومسائل:
فائدہ: کھانے میں دو قسم کی چیزیں یا دو قسم کے کھانے جمع کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔
جبکہ اسراف اور ترفہ یعنی محض خوش حالی اور خوش خورکی کا اظہار نہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3837 سے ماخوذ ہے۔