حدیث نمبر: 3832
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ أَبُو قُتَيْبَةَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ عَتِيقٍ ، فَجَعَلَ يُفَتِّشُهُ يُخْرِجُ السُّوسَ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ پرانے کھجور لائے گئے تو آپ اس میں سے چن چن کر کیڑے ( سرسریاں ) نکالنے لگے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3832
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4226), أخرجه ابن ماجه (3333 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأطعمة 42 (3333)، (تحفة الأشراف: 215) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3333

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کھاتے وقت کھجور سے کیڑے تلاش کرنا اور نکالنے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ پرانے کھجور لائے گئے تو آپ اس میں سے چن چن کر کیڑے (سرسریاں) نکالنے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3832]
فوائد ومسائل:
فائدہ: سوس پہلے سین پر زبر پڑھیں۔
تو یہ مصدر ہوگا۔
اس سے مراد کھجور یا غلے کا وہ دانہ ہوگا۔
جس میں کیڑا وغیرہ لگ گیا ہو۔
اگر پہلے سین پر پیش پڑھیں۔
تو خود کیڑا یا سرسری مراد ہوگی۔
مطلب یہ کہ کیڑا وغیرہ لگنے سے کھجور یا غلہ نجس نہیں ہوجاتا۔
اور جہاں تک ہوسکے صاف کرکے استعمال کر لینا چاہیے۔
اس میں نبی کریمﷺ کا تواضع کا بھی بیان ہے کہ آپﷺ میں نخوت نہ تھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3832 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3333 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´اچھی اچھی کھجوریں تلاش کر کے کھانے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے پاس پرانی کھجوریں لائی گئیں، تو آپ اس میں سے اچھی کھجوریں چھانٹنے لگے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3333]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  تحفہ قبول کرنا چاہیے اگرچہ بظاہروہ حقیر سا ہو۔

(2)
کھانے کی ادنی چیز بھی اللہ کی نعمت ہے لہٰذا اس کی قدر کرنی چاہیے۔

(3)
اگر خراب چیز کو ٹھیک کرکے استعمال کیا جا سکتا ہو تو اسے ضائع کرنے کی بجائے کھا لینا چاہیے۔

(4)
پھل کا کچھ حصہ خراب ہو تو اسے پھینکنے کی بجائے خراب حصہ الگ کرکے صحیح حصہ استعمال کر لینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3333 سے ماخوذ ہے۔