حدیث نمبر: 3830
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ يَزِيدَ الْأَعْوَرِ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ فَوَضَعَ عَلَيْهَا تَمْرَةً ، وَقَالَ : هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یوسف بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس پر کھجور رکھا اور فرمایا : ” یہ اس کا سالن ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3830
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (3260), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 137
تخریج حدیث « انظرحدیث رقم : (3259)، (تحفة الأشراف: 11854) (ضعیف) » (اس کے راوی یزیدا لاعور مجہول ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3259

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کھجور کا بیان۔`
یوسف بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس پر کھجور رکھا اور فرمایا: یہ اس کا سالن ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3830]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
البتہ جن علاقوں میں کھجور باکثرت ہوتی ہے۔
وہاں لوگ اس کے ساتھ بلاتکلف روٹی کھاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ تکلفات سے کوسوں دور تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3830 سے ماخوذ ہے۔