حدیث نمبر: 3824
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَظُنُّهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَفَلَ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَفْلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَمَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ثَلَاثًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قبلہ کی جانب تھوکا تو اس کا تھوک قیامت کے دن اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگا ہوا آئے گا ، اور جس نے ان گندی سبزیوں کو کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے “ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3824
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, جرير بن عبدالحميد شك في رفع الحديث, فالسند معلل, وللحديث طريق موقوف عند ابن أبي شيبة (2/ 365) وسنده صحيح, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3326) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´لہسن کھانے کا بیان۔`
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قبلہ کی جانب تھوکا تو اس کا تھوک قیامت کے دن اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگا ہوا آئے گا، اور جس نے ان گندی سبزیوں کو کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3824]
فوائد ومسائل:

مسجد کے آداب کے علاوہ قبلے کے احترام میں یہ چیز بھی انتہائی اہم ہے۔
کہ ا س کی سمت میں تھوکا نہ جائے۔
نماز کی حالت ہو یا نماز سے باہر یہ بات صراحت سے کہی گئی، لیکن لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے۔
حالانکہ نبی کریم ﷺ نےایک شخص کو اس جرم کی پاداش میں امامت سےمعزول فرما دیا تھا۔
دیکھئے۔
(گزشتہ حدیث 482۔
کتاب الصلوة،کراهیة البزاق في المسجد)

مسجد نبوی ﷺ کی تعظیم وحرمت وحرم مکی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آدمی کسی طرح بھی دوسروں کےلئے ازیت کا باعث نہ بنے۔
دیگر مساجد کا ادب بھی یہی ہے۔
جیسے کہ اگلی حدیث میں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3824 سے ماخوذ ہے۔