سنن ابي داود
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل
باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ السِّبَاعِ باب: درندہ (پھاڑ کھانے والے جانور) کھانے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3806
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ ، عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ كَرِبَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ : " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ ، فَأَتَتْ الْيَهُودُ فَشَكَوْا أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَسْرَعُوا إِلَى حَظَائِرِهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا لَا تَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاهَدِينَ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحَرَامٌ عَلَيْكُمْ حُمُرُ الْأَهْلِيَّةِ ، وَخَيْلُهَا ، وَبِغَالُهَا ، وَكُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَكُلُّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں نے خیبر کا غزوہ کیا ، تو یہود آ کر شکایت کرنے لگے کہ لوگوں نے ان کے باڑوں کی طرف بہت جلدی کی ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خبردار ! جو کافر تم سے عہد کر لیں ان کے اموال تمہارے لیے جائز نہیں ہیں سوائے ان کے جو جائز طریقے سے ہوں اور تمہارے لیے گھریلو گدھے ، گھوڑے ، خچر ، ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے حرام ہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´درندہ (پھاڑ کھانے والے جانور) کھانے کی ممانعت کا بیان۔`
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں نے خیبر کا غزوہ کیا، تو یہود آ کر شکایت کرنے لگے کہ لوگوں نے ان کے باڑوں کی طرف بہت جلدی کی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” خبردار! جو کافر تم سے عہد کر لیں ان کے اموال تمہارے لیے جائز نہیں ہیں سوائے ان کے جو جائز طریقے سے ہوں اور تمہارے لیے گھریلو گدھے، گھوڑے، خچر، ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے حرام ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3806]
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں نے خیبر کا غزوہ کیا، تو یہود آ کر شکایت کرنے لگے کہ لوگوں نے ان کے باڑوں کی طرف بہت جلدی کی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” خبردار! جو کافر تم سے عہد کر لیں ان کے اموال تمہارے لیے جائز نہیں ہیں سوائے ان کے جو جائز طریقے سے ہوں اور تمہارے لیے گھریلو گدھے، گھوڑے، خچر، ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے حرام ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3806]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم گھوڑے کی بابت دیکھئے: (احادیث 3788۔
اور 3790)
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم گھوڑے کی بابت دیکھئے: (احادیث 3788۔
اور 3790)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3806 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3804 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´درندہ (پھاڑ کھانے والے جانور) کھانے کی ممانعت کا بیان۔`
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سنو! دانت والا درندہ حلال نہیں، اور نہ گھریلو گدھا، اور نہ کافر ذمی کا پڑا ہوا مال حلال ہے، سوائے اس مال کے جس سے وہ مستغنی اور بے نیاز ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بن کر جائے اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو اسے یہ حق ہے کہ اس کے عوض وہ اپنی مہمانی کے بقدر ان سے وصول کر لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3804]
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سنو! دانت والا درندہ حلال نہیں، اور نہ گھریلو گدھا، اور نہ کافر ذمی کا پڑا ہوا مال حلال ہے، سوائے اس مال کے جس سے وہ مستغنی اور بے نیاز ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بن کر جائے اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو اسے یہ حق ہے کہ اس کے عوض وہ اپنی مہمانی کے بقدر ان سے وصول کر لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3804]
فوائد ومسائل:
فائدہ: جب کسی کافرکا گرا پڑا مال اٹھانا جائز نہیں تو مسلمان کا مال اٹھانا بالاولیٰ منع ہوا۔
ہاں اگر معمولی ہو کہ اس کے مالک کو اس کی طمع نہ ہو تو الگ بات ہے۔
اسی طرح اعلان کرنے کی نیت سے بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔
فائدہ: جب کسی کافرکا گرا پڑا مال اٹھانا جائز نہیں تو مسلمان کا مال اٹھانا بالاولیٰ منع ہوا۔
ہاں اگر معمولی ہو کہ اس کے مالک کو اس کی طمع نہ ہو تو الگ بات ہے۔
اسی طرح اعلان کرنے کی نیت سے بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3804 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3193 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نیل گائے کے گوشت کا حکم۔`
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزوں کو حرام قرار دیا، حتیٰ کہ انہوں نے (ان حرام چیزوں میں) پالتو گدھے کا بھی ذکر کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3193]
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزوں کو حرام قرار دیا، حتیٰ کہ انہوں نے (ان حرام چیزوں میں) پالتو گدھے کا بھی ذکر کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3193]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح دوسری ممنوعہ اشیاء ہمیشہ کے لیے حرام ہیں، اسی طرح گدھا بھی حرام ہے جیسے کہ حدیث: 3196 میں اسے ‘‘ناپاک’‘ قراردیا گیاہے۔
فوائد و مسائل:
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح دوسری ممنوعہ اشیاء ہمیشہ کے لیے حرام ہیں، اسی طرح گدھا بھی حرام ہے جیسے کہ حدیث: 3196 میں اسے ‘‘ناپاک’‘ قراردیا گیاہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3193 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 804 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´لقطہٰ (گری پڑی چیز) کا بیان`
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” سن لو! درندوں میں سے کچلیوں والا جانور حلال نہیں اور نہ ہی گھریلو گدھا اور ذمی کی گمشدہ گری پڑی چیز اٹھانا بھی حلال نہیں ہے، الایہ کہ مالک کے نزدیک اس کی خاص اہمیت و ضرورت نہ ہو۔ “ (ابوداؤد) «بلوغ المرام/حدیث: 804»
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” سن لو! درندوں میں سے کچلیوں والا جانور حلال نہیں اور نہ ہی گھریلو گدھا اور ذمی کی گمشدہ گری پڑی چیز اٹھانا بھی حلال نہیں ہے، الایہ کہ مالک کے نزدیک اس کی خاص اہمیت و ضرورت نہ ہو۔ “ (ابوداؤد) «بلوغ المرام/حدیث: 804»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الأطعمة، باب ما جاء في أكل السباع، حديث:3804.»
تشریح: معاہد چونکہ اسلامی سلطنت میں باقاعدہ اجازت لے کر آتا ہے اور پر امن رہتا ہے‘ اس لیے اس کے مال و جان کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر ہوتی ہے‘ اسی لیے اس کے اور مسلمان کے لقطہ میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا‘ البتہ اگر عرف عام میں کوئی معمولی چیز ہو تو اس کی اجازت ہے۔
راویٔ حدیث:
«حضرت مقدام رضی اللہ عنہ» مقدام کے ’’میم‘‘ کے نیچے کسرہ ہے۔
مقدام بن معدیکرب بن عمرو الِکندی (کرب کے ’’کاف‘‘ پر فتحہ اور ’’را‘‘ کے نیچے کسرہ ہے اور اضافت کی وجہ سے ’’با‘‘ کے نیچے کسرہ مع تنوین جائز ہے اور مبنی ہونے کی بنا پر اس پر فتحہ بھی جائز ہے۔
) ان کی کنیت ابوکریمہ یا ابویحییٰ تھی۔
مشہور صحابی ہیں۔
شام میں فروکش ہوئے‘ اس لیے ان کی روایت کردہ احادیث کے راوی بھی شامی ہیں۔
صحیح قول کے مطابق ۴۷ہجری میں وفات پائی۔
اس وقت ان کی عمر ۹۱ برس تھی۔
«أخرجه أبوداود، الأطعمة، باب ما جاء في أكل السباع، حديث:3804.»
تشریح: معاہد چونکہ اسلامی سلطنت میں باقاعدہ اجازت لے کر آتا ہے اور پر امن رہتا ہے‘ اس لیے اس کے مال و جان کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر ہوتی ہے‘ اسی لیے اس کے اور مسلمان کے لقطہ میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا‘ البتہ اگر عرف عام میں کوئی معمولی چیز ہو تو اس کی اجازت ہے۔
راویٔ حدیث:
«حضرت مقدام رضی اللہ عنہ» مقدام کے ’’میم‘‘ کے نیچے کسرہ ہے۔
مقدام بن معدیکرب بن عمرو الِکندی (کرب کے ’’کاف‘‘ پر فتحہ اور ’’را‘‘ کے نیچے کسرہ ہے اور اضافت کی وجہ سے ’’با‘‘ کے نیچے کسرہ مع تنوین جائز ہے اور مبنی ہونے کی بنا پر اس پر فتحہ بھی جائز ہے۔
) ان کی کنیت ابوکریمہ یا ابویحییٰ تھی۔
مشہور صحابی ہیں۔
شام میں فروکش ہوئے‘ اس لیے ان کی روایت کردہ احادیث کے راوی بھی شامی ہیں۔
صحیح قول کے مطابق ۴۷ہجری میں وفات پائی۔
اس وقت ان کی عمر ۹۱ برس تھی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 804 سے ماخوذ ہے۔