حدیث نمبر: 3805
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرما دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3805
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (3234) نسائي (4353), سعيد بن أبي عروبة مدلس و عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
تخریج حدیث « سنن النسائی/ الصید 33 (4353)، سنن ابن ماجہ/ الصید 13 (3234)، (تحفة الأشراف: 5639)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/339) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1934 | صحيح مسلم: 1939 | سنن ابي داود: 3803 | سنن ابن ماجه: 3234 | سنن نسائي: 4353

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1939 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، مجھے معلوم نہیں، (میرے خیال میں یا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس لیے ان سے روکا تھا، کیونکہ وہ لوگوں کا بوجھ اٹھاتے تھے، آپ نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ ان کے بار برداری کے جانور ختم ہو جائیں گے، یا خیبر کے دن آپ نے گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام قرار دیا تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5017]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
حمولة: لوگوں کی باربرداری کا جانور۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1939 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1934 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے سے اور پنجے والے پرندہ کے کھانے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4996]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: امام اوزاعی نے، امام مالک کے نزدیک پنجہ سے شکار کرنے والے پرندے کا گوشت مکروہ قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1934 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1934 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے سے اور ہر پنجے والے پرندہ کے کھانے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4994]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ذی مِخلب: سے مراد وہ پرندہ ہے، جو اپنے ناخنوں سے شکار کرتا ہے، جیسے چیل، باز، شاہین، صقر اگر وہ اپنے پنجہ سے شکار نہیں کرتا، تو وہ اس میں داخل نہیں ہے، جمہور علماء، امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام احمد، امام داود وغیرہم کے نزدیک ان کا کھانا حرام ہے، امام مالک، امام لیث اور اوزاعی کے نزدیک کوئی پرندہ حرام نہیں ہے۔
(المغني ج: 13، ص 322)
۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1934 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3803 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´درندہ (پھاڑ کھانے والے جانور) کھانے کی ممانعت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت والے درندے، اور ہر پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3803]
فوائد ومسائل:
فائدہ: وہ پرندے جو اپنے پنجوں ناخنوں سے اپنا شکار پکڑیں۔
اور چیر پھاڑ کر کھایئں وہ حرام ہیں۔
جیسے کہ شاہین باز اور گدھ وغیرہ اس طرح درندوں میں نیش دار درندے حرام ہیں۔
جیسے شیر بھیڑیا وغیرہ۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3803 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3234 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کچلیوں والے درندوں کو کھانا حرام ہے۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ہر کچلی (نوک دار دانت) والے درندے اور پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرما دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3234]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ روایت اس سے کفایت کرتی ہے۔
علاوہ ازیں دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کےلیے دیکھیے: (الإرواء، رقم: 2488)

(2)
مخلب شکاری پرندے کے پنجے کے ناخنوں کو کہتے ہیں جن سے وہ اپنے شکار کو پکڑتا اور چیرتا پھاڑتا ہے۔

(3)
شکاری پرندوں میں باز، چیل، گدھ اور شاہین وغیرہ شامل ہیں۔
ان سب کا گوشت حرام ہے جب کہ دانہ دنکا کھانے والے سب پرندے حلال ہیں مگر کوا حرام ہے۔ (دیکھیے حدیث: 3348)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3234 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4353 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مرغی کے گوشت کے حلال ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن پنجے والے تمام پرندوں کو کھانے سے اور دانت (سے پھاڑنے) والے تمام درندوں کو کھانے سے روکا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4353]
اردو حاشہ: ظاہراً تو اس حدیث کا باب سے تعلق نہیں بتنا بلکہ اس کے لیے الگ باب ہونا چاہیے تھا، تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ مرغ پنجے کے ساتھ شکار کرنے والا پرندہ نہیں، لہٰذا حلال ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4353 سے ماخوذ ہے۔