سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب الأَرْضِ يُصِيبُهَا الْبَوْلُ باب: زمین پر پیشاب پڑ جائے تو کیا کرنا چاہئے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، وَابْنُ عَبْدَةَ ، في آخرين وهذا لفظ ابن عبدة ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةِ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَصَلَّى ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ : رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا ، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا ، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ ، فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ ، صُبُّوا عَلَيْهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ ، أَوْ قَالَ : ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ " .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی مسجد میں آیا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ، اس نے نماز پڑھی ( ابن عبدہ نے اپنی روایت میں کہا : اس نے دو رکعت نماز پڑھی ) ، پھر کہا : ” اے اللہ ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کرنا “ ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اللہ کی وسیع رحمت کو تنگ اور محدود کر دیا “ ، پھر زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ مسجد کے ایک کونے میں وہ پیشاب کرنے لگا تو لوگ اس کی طرف دوڑے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعرابی کو ڈانٹنے سے منع کیا اور فرمایا : ” تم لوگ لوگوں پر آسانی کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو ، سختی کرنے کے لیے نہیں ، اس پر ایک ڈول پانی ڈال دو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی مسجد میں آیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے نماز پڑھی (ابن عبدہ نے اپنی روایت میں کہا: اس نے دو رکعت نماز پڑھی)، پھر کہا: ”اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کرنا“، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اللہ کی وسیع رحمت کو تنگ اور محدود کر دیا“، پھر زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ مسجد کے ایک کونے میں وہ پیشاب کرنے لگا تو لوگ اس کی طرف دوڑے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعرابی کو ڈانٹنے سے منع کیا اور فرمایا: ”تم لوگ لوگوں پر آسانی کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو، سختی کرنے کے لیے نہیں، اس پر ایک ڈول پانی ڈال دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 380]
➊ زمین اور دیگر جمادات (پتھر، شیشہ او ر لکڑی وغیرہ) پر نجاست لگ جائے تو اس کا عین دور کر دینا اور پیشاب کی صورت میں پانی بہا دینا کافی ہوتا ہے، مٹی کھرچنے کی چنداں ضرورت نہیں۔
➋ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تحیۃ المسجد پڑھنے کا معمول تھا۔
➌ دعا ہمیشہ جامع اور وسعت کی حامل ہونی چاہیے۔
➍ جاہل لوگوں کے ساتھ معاملہ بالعموم اور بالخصوص دین کی تعلیم میں ہمدردی کا ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ اور وسیع چیز مانگنی چاہیے، کیونکہ خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾ (البقره: 186) ” ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے، میں قبول کرتا ہوں “۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ناپاک جگہ پر پانی بہا کر اس کو پاک کیا جا سکتا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدو لوگوں میں اخلاق کے ساتھ اسلام نافذ کیا، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام آسان دین ہے۔