سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب بَوْلِ الصَّبِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ باب: بچے کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 379
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، أَنَّهَا أَبْصَرَتْ أُمَّ سَلَمَةَ تَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ مَا لَمْ يَطْعَمْ ، فَإِذَا طَعِمَ غَسَلَتْهُ ، وَكَانَتْ تَغْسِلُ بَوْلَ الْجَارِيَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن ( حسن بصری ) اپنی والدہ ( خیرہ جو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی تھیں ) سے روایت کرتے ہیں کہ` انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ لڑکے کے پیشاب پر پانی بہا دیتی تھیں جب تک وہ کھانا نہ کھاتا اور جب کھانا کھانے لگتا تو اسے دھوتیں ، اور لڑکی کے پیشاب کو ( دونوں صورتوں میں ) دھوتی تھیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بچے کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کرے؟`
حسن (حسن بصری) اپنی والدہ (خیرہ جو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی تھیں) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ لڑکے کے پیشاب پر پانی بہا دیتی تھیں جب تک وہ کھانا نہ کھاتا اور جب کھانا کھانے لگتا تو اسے دھوتیں، اور لڑکی کے پیشاب کو (دونوں صورتوں میں) دھوتی تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 379]
حسن (حسن بصری) اپنی والدہ (خیرہ جو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی تھیں) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ لڑکے کے پیشاب پر پانی بہا دیتی تھیں جب تک وہ کھانا نہ کھاتا اور جب کھانا کھانے لگتا تو اسے دھوتیں، اور لڑکی کے پیشاب کو (دونوں صورتوں میں) دھوتی تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 379]
379۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت معناً صحیح ہے، کیونکہ صحیح روایات سے یہ مسئلہ ثابت ہے۔
یہ روایت معناً صحیح ہے، کیونکہ صحیح روایات سے یہ مسئلہ ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 379 سے ماخوذ ہے۔