حدیث نمبر: 3783
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مَنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّرِيدَ مِنَ الْخُبْزِ ، وَالثَّرِيدُ مِنَ الْحَيْسِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهُوَ ضَعِيفٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا روٹی کا ثرید اور حیس کا ثرید تھا ( جسے پنیر اور گھی سے تیار کیا جاتا تھا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3783
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, رجل من أھل البصرة مجهول (عون المعبود 412/3 عن المنذري) وسقط ذكره في المستدرك (116/4) فصححاه!, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 134
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6282) (ضعیف) » ( اس کی سند میں ایک راوی رجل من اہل البصرة مبہم ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ثرید کھانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا روٹی کا ثرید اور حیس کا ثرید تھا (جسے پنیر اور گھی سے تیار کیا جاتا تھا)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3783]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم دیگر احادیث سے ثرید کی فضیلت ثابت ہے۔
جیسے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا عائشہ کی دیگر عورتوں پر فضیلت ایسی ہے جیسے ثرید کو دیگر کھانوں پر (صحیح البخاري، الأطعمة، حدیث: 5419۔
و صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 2446) اور اوپر زکر ہوا ہے کہ آپ ﷺکےا ایک درزی صحابی نے اپنی ایک دعوت میں آپ ﷺکو ثرید ہی پیش کیا تھا۔
(صحیح البخاري، الأطعمة، حدیث: 5420) اور یہ ایک ہلکا مقوی اور زود ہضم کھانا ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3783 سے ماخوذ ہے۔