حدیث نمبر: 3778
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ فَإِنَّهُ مِنْ صَنِيعِ الْأَعَاجِمِ ، وَانْهَسُوهُ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گوشت چھری سے کاٹ کر مت کھاؤ ، کیونکہ یہ اہل عجم کا طریقہ ہے بلکہ اسے دانت سے نوچ کر کھاؤ کیونکہ اس طرح زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث قوی نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3778
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو معشر نجيح : ضعيف (تقريب التهذيب: 7100), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 134
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17251) (ضعیف) » (اس کے راوی ابو معشر سندھی ضعیف ہیں )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´گوشت کھانے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گوشت چھری سے کاٹ کر مت کھاؤ، کیونکہ یہ اہل عجم کا طریقہ ہے بلکہ اسے دانت سے نوچ کر کھاؤ کیونکہ اس طرح زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3778]
فوائد ومسائل:
فائدہ: امام ابود ائود نے اس روایت کے ضعیف ہونے کا تذکرہ اس لئے بھی فرمایا کہ پتہ چل جائے کہ یہ روایت صحیحین اس روایت کے مقابلے میں نہیں آسکتی۔
جس میں چھری سے کاٹنے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
(عون المبعود) امام بخاری نے پانچ مختلف ابواب میں یہ حدیث بیان کی ہے۔
انہوں نے اس روایت سے چھری سے کاٹ کر گوشت کھانے کے جواز پر استدلال کیا ہے۔
دیکھئے۔
(فتح الباري، کتاب الوضو، باب من لم یتوضأ من لحم الشاة والسویق وکتاب الجهاد و السیر، باب ما یذکر في السکین)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3778 سے ماخوذ ہے۔