حدیث نمبر: 3774
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَطْعَمَيْنِ : عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ ، وَأَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُنْبَطِحٌ عَلَى بَطْنِهِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَسْمَعْهُ جَعْفَرٌ مِنْ الزُّهْرِيِّ ، وَهُوَ مُنْكَرٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جگہ کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے : ایک تو اس دستر خوان پر بیٹھ کر جس پر شراب پی جا رہی ہو اور دوسری وہ جگہ جہاں آدمی اوندھے منہ لیٹ کر کھائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث منکر ہے ، جعفر کا سماع زہری سے ثابت نہیں ہے ( اس کی دلیل اگلی سند ہے ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3774
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (3370), جعفر بن برقان لم يسمع ھذا الحديث من الزهري كما بينه أبو داود،بينھما رجل مجهول انظر الحديث الآتي (3775), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6809)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (6107)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 62 (3330) (حسن) » (مؤلف نے منکر کہا ہے لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی 3394)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3370

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3370 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´اوندھے منہ لیٹ کر کھانا منع ہے۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اوندھے منہ لیٹ کر کھائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3370]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے تاہم صحیح احادیث میں منہ کے بل لیٹنا ویسے منع ہے۔ دیکھیے: (جامع الترمذی، الأدب، باب ماجاء فی کراھیة الاضطجاع على البطن، حديث: 2768، وسنن أبي داؤد، الأدب، حديث: 5040)
تو اس طرح لیٹ کر کھانا کب جائز ہوگا؟ علاوہ ازیں شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے مذکورہ روایت کو دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بناپر قابل عمل ہے۔
واللہ اعلم۔
مزید تفصیل کےلیےدیکھیے: (سلسلة الأحاديث الصحيحة، للألبانى رقم: 2394، والإرواء رقم: 1982)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3370 سے ماخوذ ہے۔