حدیث نمبر: 3773
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ ، قَالَ : " كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ يُقَالُ لَهَا : الْغَرَّاءُ ، يَحْمِلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ ، فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحَى أُتِيَ بِتِلْكَ الْقَصْعَةِ يَعْنِي وَقَدْ ثُرِدَ فِيهَا ، فَالْتَفُّوا عَلَيْهَا ، فَلَمَّا كَثَرُوا جَثَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ ؟ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا ، وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُوا مِنْ حَوَالَيْهَا وَدَعُوا ذِرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک لگن جسے غراء کہا جاتا تھا ، اور جسے چار آدمی اٹھاتے تھے ، جب اشراق کا وقت ہوا اور لوگوں نے اشراق کی نماز پڑھ لی تو وہ لگن لایا گیا ، مطلب یہ ہے اس میں ثرید ۱؎ بھرا ہوا تھا تو سب اس کے اردگرد اکٹھا ہو گئے ، جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئے ۲؎ ایک اعرابی کہنے لگا : بھلا یہ بیٹھنے کا کون سا طریقہ ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے نیک ( متواضع ) بندہ بنایا ہے ، مجھے جبار و سرکش نہیں بنایا ہے “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے کناروں سے کھاؤ اور اوپر کا حصہ چھوڑ دو کیونکہ اس میں برکت دی جاتی ہے “ ۔

وضاحت:
۱؎: ایک قسم کا کھانا ہے جو روٹی اور شوربے سے تیار کیا جاتا ہے۔ 
۲؎: تاکہ اور لوگوں کو بھی جگہ مل جائے اور لوگ آسانی سے بیٹھ سکیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3773
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4251), أخرجه ابن ماجه (3263 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأطعمة 6 (3263)، 12 (3275)،(تحفة الأشراف: 5199 )، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة 16 (2090) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3275

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3275 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ثرید کے اونچے حصہ سے کھانا منع ہے۔`
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے اطراف سے کھاؤ، اور اس کی چوٹی یعنی درمیان کو چھوڑ دو کہ اس میں برکت ہوتی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3275]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
چوٹی سےمراد برتن کے درمیان کا کھانا ہے جو برتن بھرا ہوا ہونے کی صورت میں کناروں کی نسبت کچھ بلند ہوتا ہے۔

(2)
جب ایک برتن میں کھانے والے اپنے اپنے سامنے سے کھائیں تواس حدیث پر بھی عمل ہو جاتا ہے کیونکہ درمیان کا کھانا کناروں سے کھائے جانے کے بعد کھایا جاتا ہے۔

(3)
حدیث نبوی پر عمل کرنے سے رزق میں برکت حاصل ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3275 سے ماخوذ ہے۔