سنن ابي داود
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل
باب التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ باب: کھانے سے پہلے ”بسم اللہ“ کہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا لَمْ يَضَعْ أَحَدُنَا يَدَهُ حَتَّى يَبْدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ طَعَامًا ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ فَذَهَبَ لِيَضَعَ يَدَهُ فِي الطَّعَامِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ جَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّمَا تُدْفَعُ فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا ، وَقَالَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ الَّذِي لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَإِنَّهُ جَاءَ بِهَذَا الْأَعْرَابِيِّ يَسْتَحِلُّ بِهِ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ ، وَجَاءَ بِهَذِهِ الْجَارِيَةِ يَسْتَحِلُّ بِهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ يَدَهُ لَفِي يَدِي مَعَ أَيْدِيهِمَا " .
´حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں موجود ہوتے تو آپ کے شروع کرنے سے پہلے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا ، ایک مرتبہ ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں موجود تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی ( دیہاتی ) آیا گویا کہ وہ دھکیل کر لایا جا رہا ہو ، تو وہ کھانے میں ہاتھ ڈالنے چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک لڑکی آئی گویا وہ دھکیل کر لائی جا رہی ہو ، تو وہ بھی اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے چلی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا ، اور فرمایا : ” شیطان اس کھانے میں شریک یا داخل ہو جاتا ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ، اور بلاشبہ اس اعرابی کو شیطان لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ کھانے میں شریک ہو جائے ، اس لیے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ، اور اس لڑکی کو بھی شیطان لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ ، اس لیے میں نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں موجود ہوتے تو آپ کے شروع کرنے سے پہلے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا، ایک مرتبہ ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں موجود تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی (دیہاتی) آیا گویا کہ وہ دھکیل کر لایا جا رہا ہو، تو وہ کھانے میں ہاتھ ڈالنے چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک لڑکی آئی گویا وہ دھکیل کر لائی جا رہی ہو، تو وہ بھی اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے چلی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، اور فرمایا: ” شیطان اس کھانے میں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3766]
فائدہ: شیطان جب نبی کریمﷺکی مجلس طعام میں حملہ آوار ہونے سے باز نہیں آیا تو عام مسلمانوں کا کیا حال ہوگا؟ مگر رسول اللہ ﷺنے اس سے تحفظ کا معتمد طریقہ ارشاد فرمایا ہے اور وہ ہے کھانا شروع کرتے وقت (بسم اللہ) کا پڑھنا۔