حدیث نمبر: 3753
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ سورة النساء آية 29 ، فَكَانَ الرَّجُلُ يُحْرَجُ أَنْ يَأْكُلَ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ مَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ، فَنَسَخَ ذَلِكَ الْآيَةُ الَّتِي فِي النُّورِ ، قَالَ : لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا سورة النور آية 61 مِنْ بُيُوتِكُمْ إِلَى قَوْلِهِ أَشْتَاتًا سورة النور آية 61 ، كَانَ الرَّجُلُ الْغَنِيُّ يَدْعُو الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِهِ إِلَى الطَّعَامِ ، قَالَ : إِنِّي لَأَجَّنَّحُ أَنْ آكُلَ مِنْهُ ، وَالتَّجَنُّحُ الْحَرَجُ ، وَيَقُولُ : الْمِسْكِينُ أَحَقُّ بِهِ مِنِّي ، فَأُحِلَّ فِي ذَلِكَ أَنْ يَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَأُحِلَّ طَعَامُ أَهْلِ الْكِتَابِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` آیت کریمہ : «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» ( سورۃ النساء : ۲۹ ) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت : «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ..... ‏أشتاتا» (  سورۃ النساء : ۶۱ ) سے منسوخ ہو گئی ، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا : میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3753
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6264) (حسن الإسناد) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دوسرے کے مال سے مہمان نوازی کی حرمت جو سورۃ نساء میں تھی وہ سورۃ النور کی آیت سے منسوخ ہو گئی۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» (سورۃ النساء: ۲۹) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت: «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ..... ‏أشتاتا» (سورۃ النساء: ۶۱) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلما۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3753]
فوائد ومسائل:
فائدہ: سورہ نساء کی آیت سے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے یہ سمجھا کہ تجارت کے بغیر کسی کے ہاں کھانا کھانا۔
اکل بالباطل (ناجائز) ہے۔
اسی طرح بعض مال دار اپنے غریب رشتے دار کے ہاں کھانے میں حرج سمجھتے تھے۔
سورہ نور کی آیت سے ان دونوں شبہات کا ازالہ کرکے واضح کر دیا گیا کہ تم تجارت کے بغیر بھی ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھا سکتے ہو۔
اسی طرح مالدار شخص اپنے غریب رشتے دار کے گھر کھانا کھا سکتا ہے۔
صرف ایک شرط ہے کہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
علاوہ ازیں اہل کتاب کا کھانہ بی تمہارے لئے حلال ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3753 سے ماخوذ ہے۔