حدیث نمبر: 3746
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : فَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَلَمْ يُجِبْ ، وَحَصَبَ الرَّسُولَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی سعید بن مسیب سے یہی واقعہ مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ` پہلے اور دوسرے روز انہوں نے دعوت قبول کر لی پھر جب تیسرے روز انہیں دعوت دی گئی تو قبول نہیں کیا اور قاصد کو کنکری ماری ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3746
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, قتادة عنعن وسمعه من رجل مجهول, انظر الحديث السابق (3745), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3651، 18719) (ضعیف) » (اس کے راوی قتادہ مدلس اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دعوت ولیمہ کتنے روز تک مستحب ہے؟`
اس سند سے بھی سعید بن مسیب سے یہی واقعہ مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ پہلے اور دوسرے روز انہوں نے دعوت قبول کر لی پھر جب تیسرے روز انہیں دعوت دی گئی تو قبول نہیں کیا اور قاصد کو کنکری ماری۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3746]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
شیخ عبد التواب ملتانی لکھتے ہیں۔
کہ اگر تینوں دن کھانے والے لوگ ایک ہی ہوں۔
تو تیسرے دن کی دعوت ناجائز ہے۔
اگر مختلف ہوں تو ایام کی کثرت کا کوئی حرج نہیں۔
جو کہ سلف سے ثابت ہے۔
صحیح بخاری میں بھی اس کی طرف اشارہ موجود ہے۔
دیکھئے۔
(صحیح البخاري، النکاح، باب حق إجابة الولیمة والدعوة ومن أولم سبعة أیام ونحوہ)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3746 سے ماخوذ ہے۔