حدیث نمبر: 3735
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنَ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : أَنّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسِلَّمَ كَانَ " يُسْتَعْذَبُ لَهُ الْمَاءُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا " ، قِالَ قُتَيْبَةُ : عَيْنٌ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سقیا کے گھروں سے میٹھا پانی لایا جاتا ۔ قتیبہ کہتے ہیں : سقیا ایک چشمہ ہے جس کی مسافت مدینہ سے دو دن کی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3735
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (4284)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17038)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/100، 108) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سقیا کے گھروں سے میٹھا پانی لایا جاتا۔ قتیبہ کہتے ہیں: سقیا ایک چشمہ ہے جس کی مسافت مدینہ سے دو دن کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3735]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
صاف ااور عمدہ پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔
اس کے لئے اہتمام رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔
جائز حدود میں رہتے ہوئے اللہ کی نعمتوں سے متمتع ہونا زہد کے خلاف نہیں۔
البتہ ان نعمتوں کاشکر ضروری ہے۔
عجمی اور ہندی تصورات کے زیر اثر بعض صوفیاء ان فطری نعمتوں سے گریزاں رہنے کو دین سمجھتے ہیں۔
جبکہ یہ تصوردرست نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3735 سے ماخوذ ہے۔