سنن ابي داود
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي إِيكَاءِ الآنِيَةِ باب: برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3734
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَسْقَى ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَلَا نَسْقِيكَ نَبِيذًا ؟ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَشْتَدُّ ، فَجَاءَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرِضَ عَلَيْهِ عُودًا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ الْأَصْمَعِيُّ : تَعْرِضُهُ عَلَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے پانی طلب کیا تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا : کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلا دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ( کوئی مضائقہ نہیں ) “ تو وہ نکلا اور دوڑ کر ایک پیالہ نبیذ لے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا ؟ ایک لکڑی ہی سے سہی جو اس کے عرض ( چوڑان ) میں رکھ لیتا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اصمعی نے کہا : «تعرضه عليه» یعنی تو اسے اس پر چوڑان میں رکھ لیتا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے پانی طلب کیا تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا: کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں (کوئی مضائقہ نہیں) “ تو وہ نکلا اور دوڑ کر ایک پیالہ نبیذ لے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا؟ ایک لکڑی ہی سے سہی جو اس کے عرض (چوڑان) میں رکھ لیتا۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی نے کہا: «تعرضه عليه» یعنی تو اسے اس پر چوڑان میں رکھ لیتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3734]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے پانی طلب کیا تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا: کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں (کوئی مضائقہ نہیں) “ تو وہ نکلا اور دوڑ کر ایک پیالہ نبیذ لے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا؟ ایک لکڑی ہی سے سہی جو اس کے عرض (چوڑان) میں رکھ لیتا۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی نے کہا: «تعرضه عليه» یعنی تو اسے اس پر چوڑان میں رکھ لیتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3734]
فوائد ومسائل:
فائدہ: کھانے پینے کی اشیاء کو جب کچھ دوری تک ادھر ادھر لے جانا ہو تو مناسب یہ ہے کہ ڈھانپ کرلے جایا جائے۔
فائدہ: کھانے پینے کی اشیاء کو جب کچھ دوری تک ادھر ادھر لے جانا ہو تو مناسب یہ ہے کہ ڈھانپ کرلے جایا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3734 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5606 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5606. حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک انصاری صحابی حضرت ابو حمید ساعدی ؓ مقام نقیع سے نبی ﷺ کے لیے دودھ سے بھرا ایک برتن لائے۔ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اسے ڈھانپ کر کیوں نہیں لائے؟ اگرچہ اس پر لکڑی ہی رکھ دیتے۔“ (اعمش کہتے ہیں کہ) مجھے سفیان نے بیان کیا ان سے حضرت جابر ؓ نے نبی ﷺ سے یہ حدیث بیان کی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5606]
حدیث حاشیہ: ادب کا تقاضا ہے کہ دودھ یا پانی کے برتن کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھا جائے کبھی کھلا ہوا نہ چھوڑا جائے اس طرح کرنے سے حفاظت ہو گی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5606 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2010 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نقیع نامی جگہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا، جسے ڈھانپا نہیں گیا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’تو نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں ہے؟ خواہ اس پر لکڑی ہی رکھ دیتے۔‘‘ ابو حمید رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، رات ہی کو مشکیزوں کے منہ باندھنے کا حکم دیا گیا اور دروازوں کو رات کو بند کرنے کا حکم دیا گیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5242]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
مخمر: ڈھانپا گیا، شراب کو اس لیے خمر کہتے ہیں کہ وہ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے اور عورت کے دوپٹہ کو خمار کہتے ہیں کہ وہ اس کے سر کوڈھانپ لیتا ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، اگر گھر سے باہر کوئی کھانے پینے کی چیز لے جانی ہو تو اسے کسی چیز سے ڈھانپ لینا چاہیے، اگر اس کو مکمل طور پر ڈھانپا نہ جا سکے تو اس پر کوئی لکڑی وغیرہ ہی رکھ لینی چاہیے، جو درحقیقت اس بات کی یاد دہانی کرائے گی کہ ڈھانپتے وقت بسم اللہ پڑھ لو تاکہ یہ شیطانی اثرات سے محفوظ رہے۔
مخمر: ڈھانپا گیا، شراب کو اس لیے خمر کہتے ہیں کہ وہ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے اور عورت کے دوپٹہ کو خمار کہتے ہیں کہ وہ اس کے سر کوڈھانپ لیتا ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، اگر گھر سے باہر کوئی کھانے پینے کی چیز لے جانی ہو تو اسے کسی چیز سے ڈھانپ لینا چاہیے، اگر اس کو مکمل طور پر ڈھانپا نہ جا سکے تو اس پر کوئی لکڑی وغیرہ ہی رکھ لینی چاہیے، جو درحقیقت اس بات کی یاد دہانی کرائے گی کہ ڈھانپتے وقت بسم اللہ پڑھ لو تاکہ یہ شیطانی اثرات سے محفوظ رہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2010 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2011 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپﷺ نے پانی مانگا، ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلائیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’کیوں نہیں۔‘‘ وہ آدمی دوڑتا ہوا گیا اور ایک نبیذ کا پیالہ لے آیا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’تو نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں؟ خواہ اس پر لکڑی ہی رکھ دیتے۔‘‘ پھر آپﷺ نے پی لیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5244]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر برتن میں کسی چیز کے گرنے کا احتمال نہ ہو تو اس کو اگر ڈھانپا نہ گیا ہو تو اس سے کھانے یا پینے کی چیز استعمال کی جا سکتی ہے، لیکن یہ آداب اسلام کے منافی ہے کہ اس کو ڈھانپا نہ جائے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2011 سے ماخوذ ہے۔