حدیث نمبر: 3721
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَعَا بِإِدَاوَةٍ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ : اخْنِثْ فَمَ الْإِدَاوَةِ ، ثُمَّ شَرِبَ مِنْ فِيهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن ایک مشکیزہ منگوایا اور فرمایا : ” مشکیزے کا منہ موڑو “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ سے پیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3721
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1891), عبد اللّٰه العمري ضعيف عابد (تق : 3489) إلا في نافع فھو حسن الحديث عنه, انظر تحفة الأقوياء (188), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 132
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأشربة 18 (1891)، (تحفة الأشراف: 5149) (منکر) » (سند میں عبیداللہ بن عمر ہیں، ابوعبیدالآجری سے روایت ہے کہ امام ابوداود نے کہا : «ہذا لا یعرف عن عبیداللہ بن عمر، والصحیح حدیث عبدالرزاق عن عبداللہ بن عمر (تحفة الأشراف: 5149) » (یہ حدیث عبیداللہ بن عمر سے نہیں جانی جاتی ، اس کو عبدالرزاق نے عبداللہ بن عمر سے روایت کیا ہے ، واضح رہے کہ امام ترمذی نے عبدالرزاق سے اس طریق کی روایت کے بعد فرمایا : اس کی سند صحیح نہیں ہے ، عبداللہ العمری حفظ کے اعتبار سے ضعیف ہیں ، اور مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے عیسیٰ بن عبداللہ سے سنا ہے یا نہیں سنا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ عبیداللہ بن عمر سے یہ روایت غلط ہے صحیح یہ ہے کہ اس کو عبدالرزاق نے عبداللہ بن عمرالعمری سے روایت کیا جس کے بارے میں امام ابوداود نے اوپر اشارہ کیا اور امام ترمذی نے اس پر تنقید فرمائی ، نیز اوپر کی حدیث جو عبیداللہ بن عمر سے مروی ہے اس میں رسول اللہ صلی+اللہ+علیہ+وسلم سے مشک کے منہ سے موڑ کر پینے سے منع کیا گیا ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1891

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1891 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مشکیزے سے منہ لگا کر پینے کی رخصت کا بیان۔`
عبداللہ بن انیس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک لٹکی ہوئی مشکیزہ کے پاس گئے، اسے جھکایا، پھر اس کے منہ سے پانی پیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1891]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عبداللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہیں، اور یہ حدیث پچھلی صحیح حدیث کے برخلاف ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1891 سے ماخوذ ہے۔