سنن ابي داود
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ باب: مشک کا منہ موڑ کر اس میں سے پینا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3721
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَعَا بِإِدَاوَةٍ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ : اخْنِثْ فَمَ الْإِدَاوَةِ ، ثُمَّ شَرِبَ مِنْ فِيهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن ایک مشکیزہ منگوایا اور فرمایا : ” مشکیزے کا منہ موڑو “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ سے پیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1891 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مشکیزے سے منہ لگا کر پینے کی رخصت کا بیان۔`
عبداللہ بن انیس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک لٹکی ہوئی مشکیزہ کے پاس گئے، اسے جھکایا، پھر اس کے منہ سے پانی پیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1891]
عبداللہ بن انیس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک لٹکی ہوئی مشکیزہ کے پاس گئے، اسے جھکایا، پھر اس کے منہ سے پانی پیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1891]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عبداللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہیں، اور یہ حدیث پچھلی صحیح حدیث کے برخلاف ہے)
نوٹ:
(سند میں عبداللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہیں، اور یہ حدیث پچھلی صحیح حدیث کے برخلاف ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1891 سے ماخوذ ہے۔